ملک بدر نہ کیا جائے، ابو قتادہ اپیل جیت گئے

فائل فوٹو
Image caption بینالاقوامی قوانین کے تحت ٹارچر اور ٹارچر کے ذریعے اکٹھے کیے جانے والے ثبوت غیر قانونی ہیں: یورپی عدالت برائے انسانی حقوق

اسنانی حقوق کی یورپی عدالت نے ریڈیکل مبلغ ابو قتادہ کی برطانیہ سے اردن ملک بدر کیے جانے کے خلاف اپیل منظور کر لی ہے۔

یورپی عدالت کے ججوں نے برطانیہ کے اردن کے ساتھ اس معاہدے کو قبول کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ابو قتادہ کے خلاف ٹارچر استعمال نہ کیا جائے۔ تاہم عدالت نے حکم دیا کہ ان پر دہشت گردی کا مقدمہ دوسروں کی طرف سے ٹارچر استعمال کر کے لیے گئے ثبوتوں کی بنا پر نہ چلایا جائے۔

برطانیہ کی سیکریٹری داخلہ ٹریسا مے کا کہنا ہے کہ یورپی ججوں کا فیصلہ حرفِ آخر نہیں ہے۔

برطانوی حکومت اس فیصلے کے خلاف اگلے تین ماہ میں اپیل کر سکتی ہے۔ تین ماہ بعد وہ اس فیصلے کی پابند ہو گی۔ اگر اس نے اپیل نہ کی تو اسے مبلغ کو رہا کرنا پڑے گا۔

ابو قتادہ جن کا اصل نام ابو عثمان ہے، یورپ میں سب سے زیادہ با اثر اسلامی مبلغوں میں سے ایک ہیں اور وہ جہادیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ برطانوی جج انہیں ایک خطرناک شخص قرار دے چکے ہیں۔

ان کے خلاف برطانیہ میں کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا، لیکن انہیں بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا ہے اور ایک کنٹرول آرڈر کے تحت ان کی حرکات و سکنات کو محدود کیا گیا ہے۔

ابو قتادہ 1993 میں دو مرتبہ ٹارچر سہنے کے بعد اردن سے فرار ہو کر برطانیہ آ گئے تھے۔