آنگ سان سو چی ضمنی انتخاب لڑیں گی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ پہلا موقع ہو گا کہ آنگ سان سو چی انتخابات میں حصہ لیں گی

برما کی جمہوریت نواز سیاسی رہنما آنگ سان سو چی نے ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے رجسٹریشن کروا لی ہے۔

نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی نامی سیاسی جماعت کی سربراہ رنگون کے جنوب مغرب میں کواہمو کی نشست پر یکم اپریل کو ہونے والے الیکشن میں حصہ لیں گی۔

آنگ سان سو چی کو نومبر 2010 میں بیس سال کی نظر بندی کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

برما میں ضمنی انتخابات میں اڑتالیس نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ یہ نشستیں اس وقت خالی ہوئی تھیں جب کابینہ کے ارکان نے اپنی وزارتیں سنبھال لی تھیں۔

آنگ سان سو چی کی جماعت ضمنی انتخابات میں چالیس نشستوں پر امیدوار کھڑے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

جنوب مشرقی ایشیا کے لیے بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروے کے مطابق ان انتخابات کو فوج کی حمایت یافتہ برمی حکومت کے اصلاح پسندی کے دعوؤں کے اہم ترین تجزیے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آنگ سان سو چی کی جانب سے رجسٹریشن کے کاغذات جمع کروانے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی لیکن جب وہ انتخابی دفتر سے باہر نکلیں تو ان کے سینکڑوں حامی ان کے استقبال کے لیے جمع تھے۔

وہ جس علاقے سے انتخاب میں حصہ لیں گی وہ دو ہزار آٹھ میں آنے والے نرگس نامی سمندری طوفان سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔

یہ پہلا موقع ہو گا کہ آنگ سان سو چی انتخابات میں حصہ لیں گی۔ وہ سنہ انیس سو نوے میں اپنی جماعت نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی کی انتخابات میں تاریخی فتح کے بعد سے اپنے گھر پر نظربند تھی۔ اس فتح کے باوجود ان کی جماعت کو اقتدار میں آنے نہیں دیا گیا تھا۔

نیشنل لیگ آف ڈیموکریسی نے دو ہزار دس کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔ ان انتخابات کے نتیجے میں صدر تھین سین کی عوامی حکومت نے فوجی جنتا کی جگہ لی تھی۔

حکومت سنبھالنے کے بعد برمی حکام نے محترمہ سو چی سے مذاکرات کیے تھے اور وہ انتخابی قانون تبدیل کر دیا تھا جس کی وجہ سے سان سو چی کی جماعت نے دو ہزار دس کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔

اسی بارے میں