’انتباہ نظرانداز کرنے سے ہزاروں ہلاکتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption قحط سے مشرقی افریقہ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں: رپورٹ

برطانیہ کے دو امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے پیشگی انتباہ کو نظرانداز کیے جانے کے باعث مشرقی افریقہ میں ہزاروں افراد قحط کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

آکسفیم اور سیو دا چلڈرن کا کہنا ہے کہ ناگزیر قحط کے پیشگی خطرے پر کام کرنے میں امدادی اداروں کو چھ ماہ لگ گئے۔ اس دوران کینیا، ایتھوپیا (حبشہ) اور صومالیہ میں پچاس ہزار سے ایک لاکھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

دونوں امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ چندہ دینے والے اقوامِ متحدہ اور غیرسرکاری اداروں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

’اے ڈینجرس ڈِلے‘ یعنی خطرناک تاخیر نامی اپنی رپورٹ میں امدادی اداروں نے کہا ہے کہ خطرات سے بچنے کے لیے امدادی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہیں۔

ان کے بقول تباہی کے تخمینوں کو تسلیم کرنے میں کینیا اور ایتھوپیا کی حکومتوں کی عدم دلچسپی بھی مسائل کا حصہ رہی جبکہ امدادی اداروں کے عملے نے اس صورتحال کا بہت پہلے اندازہ لگا لیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی امداد دینے والے ممالک اور ادارے امدادی رقم دینے سے قبل ممکنہ انسانی تباہی کا ثبوت چاہتے ہیں۔

انتہائی جدید پیشگی اطلاعی نظام نے اگست سنہ دو ہزار دس میں ممکنہ ہنگامی صورتحال کے بارے میں متنبہ کردیا تھا تاہم بڑے پیمانے پر ردعمل جولائی سنہ دوہ ہزار گیارہ سے شروع کیا گیا تھا۔

تاہم اس وقت تک مشرقی افریقہ میں غذائی قلت ہنگامی صورتحال اختیار کر چکی تھی جبکہ میڈیا میں بھی اس بارے میں بہت زیادہ کوریج کی جانے لگی تھی۔

قحط کے دوران ایک موقع پر اقوامِ متحدہ نے اندازہ لگایا تھا کہ ایک کروڑ افراد کو انسانی بنیاد پر امداد کی ضرورت ہے۔ نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد نے خوراک کی تلاش میں کیمپوں کا رخ کیا اور خاص طور پر صومالیہ کے کئی حصوں میں جہاں سرکاری فوجیں شدت پسند تنظیم الشباب کے باغیوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہیں۔

رپورٹ میں تمام فریقوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بحرانی کیفیت کی پیشگی اطلاع کو سنجیدگی سے لیا کریں۔ بین الاقوامی نظام کے تمام اراکین سے التجا کی گئی ہے کہ وہ بھوک کے بحران سے قبل اور اس کے بدترین اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ’قومی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ بحران میں گِھرے لوگوں کی مدد کے لیے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں۔‘

اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے ’اگر پیشگی اطلاعی نظام پر کان دھرے جائیں اور فوری ردعمل کا مظاہرہ کیا جائے تو اموات، مشکلات اور مالی نقصانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔‘

اپنی رپورٹ میں آکسفیم اور سیو دا چلڈرن نے دیگر اداروں کے ساتھ اپنے کردار کا بھی مواخذہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نقل مکانی کرنے والے لاکھوں افراد نے خوراک کی تلاش میں کیمپوں کا رخ کیا: رپورٹ

آکسفیم کی چیف ایگزیکیٹو باربرا سٹاکنگ نے کہا ’ہم سب اس خطرناک تاخیر کے ذمہ دار ہیں۔ یہ چونکا دینے کے لیے کافی ہے کہ فوری اور فیصلہ کن ردعمل میں ناکامی کی سزا انتہائی غریب عوام بھگت رہے ہیں۔‘

سیو دا چلڈرن کے چیف ایگزیکیٹو جسٹِن فورسِتھ کا کہنا تھا کہ واضح پیشگی اطلاع کو نظرانداز کیا گیا۔

’ہم ایسی مبہم صورتحال کو جاری رہنے کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتے جبکہ دنیا جانتی ہے کہ ہنگامی صورتحال سر پر ہے لیکن وہ اس کی طرف سے آنکھیں مُوند لے اور پھر ٹی وی پر غذائی قلت کے شکار بچوں کی تصاویر دکھائی جانے لگیں۔‘

اسی بارے میں