ایران پر حملہ، تباہ کن نتائج برآمد ہونگے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایران میں اندرونی کشیدگی میں اضافے سے مہاجرین کا سیلاب ہمسایہ ممالک کا رخ کرے گا

روس نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے تباہ کن نتائج برآمد ہونگے اور اس کے نتیجے میں خطے میں سنی اور شیعہ مسلمانوں کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لووروف نے مغرب پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران سے خام تیل خریدنے پر پابندیوں کی ترغیب دے کر ایران کی معیشت کا گلا گھونٹنا چاہتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لووروف سے جب ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا تو اس پر انھوں نے کہا کہ’ اس تباہی کے برپا ہونے کے امکانات کے بارے میں آپ ان لوگوں سے پوچھیں جو اسے مسلسل ایک آپشن یا حل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔‘

روسی وزیر خارجہ نے روس کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ’ایران سے جنگ کرنے کے ارادے کے امکانات بہت محدود ہیں کیونکہ وہ اندورنی گروہی کشیدگی کو ہوا دیں گے جس کی نتیجے میں ایران سے ہمسایہ ممالک میں مہاجرین کا ایک سیلاب آئے گا۔‘

روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ’مجھے اس حقیقت پر کوئی ابہام نہیں ہے کہ یہ قدم پہلے سے موجود سنی شیعہ تنازع پر جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہو گا اور مجھے اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ اس کے بعد شروع ہونے والا سلسلہ وار ردعمل کہاں جا کر رکے گا۔

’اس کے نتیجے میں ایران سے مہاجرین کا ایک سیلاب آذربائیجان اور پھر وہاں سے روس کا رخ کرے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ سزا کے طور پر پابندیاں لگانے کا مقصد ایران سے مزید شفافیت حاصل کرنا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ خود تھک جائیں گے اور اس سے صرف امن کے امکانات کو نقصان پہنچے گا۔

روسی وزیر خارجہ کے مطابق ایران کے خلاف اضافی یک طرفہ اقتصادی پابندیاں کا حکومت سے جوہری ہتھیاروں کے عدم حصول کی یقین دہانی کی خواہش سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس کا سنجیدہ مقصد ایران کی معیشت اور اس کی عوام کی بہتری یا فلاح کا گھلا گھونٹنا ہے اور ممکنہ طور پر عدم اطمینان یا بے چینی پر اکسانے کی امید ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایران دھمکی دے چکا ہے کہ اگر اس کے تیل کی برآمد پر پابندی عائد کی گئی تو وہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دے گا

روسی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جو یورپی اتحاد کے سفارت کار ایران سے رواں سال جولائی سے خام تیل خریدنے پر پابندیاں لگانے کے فیصلے کے قریب ہیں۔

روسی وزیر خارجہ کے مطابق روس کے پاس اس بات کے واضح شواہد ہیں کہ ایران جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے سے اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کے حوالے سے قریبی تعاون اور یورپ سے سنجیدہ مذاکرات کی تیاری کر رہا ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ روس اور یورپی ممالک بات چیت کے نئے دور کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے مخصوص اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

اس سے پہلے اسرائیل کے وزیر دفاع ایہود براک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کے ملک کا ایران پر اس کے جوہری پروگرام کے حوالے سے حملے کرنے کے ارادے سے دور ہے اور ابھی بھی اس کو یقین ہے کہ فوجی حل کا آپشن بہت دور ہے۔

اسی بارے میں