وائٹ ہاؤس میں دھوئیں کا بم پھینکنے کی تحقیقات

Image caption جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت صدر اوباما اور خاتونِ اول وائٹ ہاؤس میں موجود نہیں تھے

امریکی سیکرٹ سروس صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کے احاطے میں مبینہ طور پر دھوئیں کا بم پھینکے جانے کے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

دھواں پیدا کرنے والا یہ بم منگل کی شب ایک مظاہرے کے دوران وائٹ ہاؤس کی بیرونی باڑ پر سے اندر پھینکا گیا۔

.تاحال اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور مظاہرین بھی منتشر ہو چکے ہیں۔

سیکرٹ سروس کے ترجمان جارج اوگلوی کے مطابق یہ بم اس وقت پھینکا گیا جو ’واشنگٹن پر قبضہ کرو‘ تحریک کے لیے ایک ہزار سے پندرہ سو حامی امریکی صدر کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کر رہے تھے۔

جس وقت یہ واقعہ پیش آیا اس وقت صدر اوباما اور خاتونِ اول وائٹ ہاؤس میں موجود نہیں تھے۔

ادھر امریکہ میں ایک عدالت نے گزشتہ سال نومبر میں وائٹ ہاؤس پر حملہ کرنے والے شخص پر صدر اوباما کو قتل کرنے کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی ہے۔

ایک ڈاکٹر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اورٹیگا ہرنینڈز نامی یہ شخص ذہنی طور پر بالکل ٹھیک ہے اور مقدمے کا سامنا کر سکتا ہے۔

اکیس سالہ اورٹیگا کا تعلق امریکی ریاست آئیداہو سے ہے اور وہ خود کو نئے دور کا یسوع مسیح قرار دیتے ہیں۔

فائرنگ کے اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا تھا اور صدر اوباما اس وقت وائٹ ہاؤس میں موجود نہیں تھے بلکہ کیلیفورنیا میں تھے۔

اسی بارے میں