ایرانی ’پریس ٹی وی‘ کا لائسنس منسوخ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

برطانیہ میں ذرائع ابلاغ کے نگران ادارے آف کام نے ایران کے نیوز چینل ’پریس ٹی وی‘ کا برطانیہ میں نشریات کا لائسنس منسوخ کر دیا ہے۔

آف کام کا کہنا ہے کہ ایران کے انگریزی زبان میں نشر ہونے والے ریاستی چینل نے نشریاتی قوانین کی ایسی خلاف ورزیاں کی تھیں جن کا تعلق ادارت سے تھا۔

چینل کو بیس جنوری سے سکائی نیٹ ورک سے ہٹا دیا جائے گا۔

پریس ٹی وی گزشتہ سال عائد کیا گیا ایک لاکھ پونڈ جرمانہ ادا کرنے سے بھی قاصر رہا ہے۔

ایرانی ٹی وی پر یہ جرمانہ اس وقت عائد کیا گیا تھا جب اس نے نیوز ویک اور چینل فور سے تعلق رکھنے والے زیرِ حراست صحافی مظائر بہاری کا انٹرویو نشر کیا تھا۔ آف کام کا موقف ہے کہ وہ انٹرویو جبراً لیا گیا۔

دوسری جانب چینل نے اس فیصلے کو سنسرشپ کی واضح مثال قرار دیا ہے۔

آف کام کا کہنا تھا کہ پریس ٹی وی نے بتایا تھا کہ وہ یہ جرمانہ ادا کرنے کے قابل نہیں اور نہ ہی وہ اس پر رضامند ہیں۔

مظائر بہاری کے انٹرویو کی تحقیقات کے دوران آف کام کو احساس ہوا کہ چینل کے ادارتی فیصلے برطانیہ کی بجائے تہران میں کیے جاتے ہیں۔

پریس ٹی وی کو ان الزامات کا جواب دینے کا اور نشریاتی قوانین کے دائرہِ ضابطہ میں واپس آنے کا موقع دیا گیا مگر آف کام کے مطابق چینل یہ تبدیلیاں نہیں لا سکا۔

سنہ دو ہزار سات میں ایران کے ریاستی نشریاتی ادارے نے پریس ٹی وی شروع کیا تھا جس کا مقصد مغربی ممالک کی عالمی ذرائع ابلاغ پرگرفت کو توڑنا تھا۔

اسی بارے میں