فرانس کے مشترکہ فوجی آپریشن منسوخ

افغانستان میں فرانسیسی فوجی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس واقعہ میں فرانسیسی مسلح افواج کے دیگر 16 افسران زخمی بھی ہوئے ہیں

افغانستان میں ایک افغان سپاہی کے ہاتھوں چار فرانسیسی فوجیوں کو ہلاکت کے بعد فرانس نے افغان فوج کے ساتھ مشترکہ ٹریننگ پروگرام منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شمالی افغانستان میں افغان نیشنل آرمی کے ایک سپاہی نے فائرنگ کر کے فرانسیسی فوج کے چار فوجیوں کو ہلاک اور کم از کم سولہ کو زخمی کر دیا ہے۔

حملہ آور کو فرانسیسی فوجیوں نے گرفتار کر لیا ہے

یہ واقعہ شمالی کابل کے ضلع تغب میں ہوا ہے۔

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہا ہے کہ اس حملے کے بعد فرانس افغانستان میں اپنے ٹریننگ پروگرام منسوخ کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان سے فرانسیسی فوج کی قبل از وقت واپسی کے بارے میں بھی غور کیا جا رہا ہے۔

افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فرانس کے بغیر طالبان کے ساتھ لڑائی زیادہ مشکل ہوجائے گی جہاں فرانس کے ساڑھے تین ہزار فوجی تعینات ہیں۔

ایک افغان افسر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیٹو اور ہمارے لیے افسوسناک دن ہے۔

نیٹو نے اس بیان کی تصدیق کی ہے کہ فائرنگ کے واقعہ میں اس کے چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور یہ کہ مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اس کے علاوہ واقعہ کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔

حالیہ مہینوں میں افغان سپاہیوں کی جانب سے نیٹو کے فوجیوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاو ایک اور واقعہ میں جنوبی افغانستان میں تعینات نیٹو کے چھ فوجی اہلکار ہیلی کاپٹر کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے۔

طالبان نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی ہے تاہم افغانستان میں اتحادی فوج ایساف کے ترجمان نے جمعہ کو کہا ہے کہ حادثے کے وقت علاقے میں دشمن کی طرف سے کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں ہورہی تھی۔

اسی بارے میں