مصر:انتخابات میں اسلام پسندوں کی فتح

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایوان میں اسلام پسند جماعتوں نے تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے

مصر میں تین مرحلوں میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

نتائج کے مطابق اسلام پسند جماعتوں کو ان انتخابات میں بڑے فرق سے فتح ملی ہے۔

الیکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمون نے الاٹ کی گئی جماعتی نشستوں میں سے اڑتیس فیصد پر کامیابی حاصل کی ہے جو کہ مجموعی طور پر نشستوں کا پچاس فیصد ہیں۔

سلفی خیالات کی حامی اسلامی جماعت النور پارٹی ان انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہی ہے اور اس نے پچیس فیصد نشستیں جیتی ہیں۔

اس طرح مصر کے ایوان میں اسلام پسند جماعتوں نے تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔

مصر میں پارلیمانی انتخابات دو ماہ کے عرصے کے دوران منعقد ہوئے تھے اور یہ گزشتہ سال فروری میں سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار سے علیحدگی کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات تھے۔

مصر میں اخوان المسلمون پانچ عشروں سے کالعدم جماعت تھی لیکن حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد وہ ایک اہم سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔

پارلیمانی انتخاب کے تینوں مراحل میں اخوان المسلمون کو برتری حاصل رہی اور وہ اپنے حریفوں کو یقین دلانے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ آئین سازی میں ان کے کردار کو تسلیم کرے گی اور ان پر اپنی رائے تھونپنے سے گریز کرے گی۔

قائرہ میں بی بی سی کے جون لین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسا لگ رہا ہے کہ اخوان المسلمون آخر کار اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن حکومت بنانے کا حتمی فیصلہ صدر کو کرنا ہے۔

اس لیے ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعتوں کو اقتدار میں آنے سے پہلے یہ مرحلہ بھی طے کرنا ہوگا۔ فوجی حکمرانوں کے طے کیے گئے فیصلے کے مطابق مصر کے صدرِ مملکت کا انتخاب رواں سال جون تک مکمل ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ سابق صدر حسنیٰ مبارک کے دورِ حکومت کے دوران حزبِ اختلاف کی اسلام پسند جماعت اخوان المسلمون پر حکومت کی جانب سے پابندیاں عائد تھیں اور اس کی سیاست میں شمولیت نہ ہونے کے برابر تھی۔

اسی بارے میں