’غلطیوں پر عوام سے معافی کا طلب گار ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح 33 سال اقتدار پر جمے رہنے کے بعد ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور جانے سے پہلے قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ اگر ان سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو وہ معافی چاہتے ہیں۔

انہوں نے اپنے الوداعی پیغام میں کہا: ’میں اپنے ملک کے مردوں اور عورتوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ گیارہ ماہ تک بجلی کی فراہمی سمیت کئی سروسز کے بند ہونے اور بھوک کے باوجود ڈٹے رہے اور میں لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے جدوجہد کی۔ میں اپنے تینتیس سالہ اقتدار میں ہونے والی غلطیوں پر معافی مانگتا ہوں اور تمام یمنی باشندوں کو اپنی معذرت پیش کرتا ہوں‘۔

یمنی حکام کے مطابق صدر صالح عمان گئے ہیں۔

اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ وہ علاج کی غرض سے جلد ہی امریکہ چلے جائیں گے لیکن بعد میں یمن واپس بھی آئیں گے۔

ان کا یہ خطاب ایسے وقت آیا ہے جب کہ ایک روز پہلے ہی یمن کی پارلیمان نے ان کو استثنیٰ دینے کا قانون منظور کیا۔ باوجود اسکے کہ یمن میں صدر صالح کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے مطالبے کے حق میں مسلسل احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے عوام سے اپنے تیس سالہ دورِ اقتدار میں کی گئی غلطیوں کی معافی مانگی ہے۔

یمنی حکام کے مطابق صدر نے اپنے ’الوداعی خطاب‘ میں کہا کہ وہ علاج کی غرض سے امریکہ جا رہے ہیں اور یمن واپس آئیں گے۔

یمنی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب امریکہ علاج کی غرض سے جا رہے ہیں۔

حکام کے مطابق ان کا یہ خطاب ایسے وقت آیا ہے جب ایک روز قبل ہی یمن کی پارلیمان نے ان کو استثنیٰ دینے کا بل منظور کیا۔

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں لاکھوں افراد سڑکوں پر ایک بار پھر نکل آئے ہیں اور وہ صالح سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے صنعاء کے مرکزی ہوائی اڈے کا رن وے بند کردیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ صدر کے سوتیلے بھائی اور فضائیہ کے کمانڈر میجر جنرل محمد صالح مستعفی ہوں۔

اسی بارے میں