نائجیریا دھماکے، ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ

کانو دھماکے تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نائجیریا کے صدر نے کہا ہے کہ سکیورٹی کی صورتِ حال خانہ جنگی سے بھی زیادہ گھمبیر ہو گئی ہے

نائجیریا کے کانو شہر میں ڈاکٹروں کے مطابق جمعہ کو ہونے والے بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو ساٹھ تک پہنچ چکی ہے اور اس میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک لاشیں ہسپتالوں میں پہنچائی جا رہی ہیں۔

شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے یہ دھماکے اس لیے کیے ہیں کہ حکومت نے اس کے اراکین کو جیلوں سے رہا کرنے سے انکار کیا تھا۔

بوکو حرام کے ترجمان ابوالقاقا نے شمال مشرقی شہر میدوگوری میں واقع تنظیم کے ہیڈکوارٹر پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے گروپ نے یہ حملے حکام کی جانب سے کانو میں تنظیم کے گرفتار اراکین کو رہا کرنے سے انکار پر کیے۔

یہ گروپ نائجیریا میں اسلامی قوانین نافذ کرنا چاہتا ہے۔ بوکو حرام کے رہنماء محمد یوسف کی سنہ دو ہزار نو میں پولیس حراست میں ہلاکت کو بھی سرکاری عمارتوں پر حملے کرنے کی وجہ بتایا جاتا ہے۔

نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن نے کانو شہر کا دورہ کیا ہے اور لوگوں کے جانی اور مالی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نائجیریا میں سکیورٹی کی صورتِ حال 1967 سے لے کر 1970 تک کی خانہ جنگی سے بھی زیادہ گھمبیر ہو گئی ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ وہ کانو دھماکوں میں ملوث افراد کو ڈھونڈ نکالیں گے۔

کانو میں موجود ایک ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 250 تک جا سکتی ہے۔

اتوار کی صبح بھی امدادی کارکن سڑکوں سے لاشیں اکٹھی کر رہے تھے۔

اسی بارے میں