’عرب لیگ کے فیصلے ملکی خودمختاری پر حملہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شام نے عرب لیگ کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد سے اقتدار اپنے نائب کو منتقل کرنے کے مطالبے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

اس سے پہلے عرب لیگ نے شام کے لیے اصلاحات کا ایک ڈھانچہ تیار کیا ہے جس پر وہ چاہتی ہے کہ دمشق تشدد کے فوری خاتمے کے لیے عمل کرے۔

قاہرہ میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد عرب لیگ نے شامی حکام سے مطالبہ کیا کہ ملک میں دو ماہ کے اندر قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دی جائے جس میں حزبِ مخالف کو بھی شامل کیا جائے۔

پیر کو شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک حکومتی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ عرب لیگ کا منصوبہ شام کے اندرونی معاملات میں سنگین مداخلت ہے۔

نامعلوم حکومتی اہلکار نے مزید بتایا کہ’ شام عرب لیگ کے ان فیصلوں کو مسترد کرتا ہے جو عرب لیگ کے عملی منصوبے سے باہر کے ہیں اور ان کو شام کی قومی سلامتی پر حملہ تصور کیا جاتا ہے اور ملکی معاملات میں ایک سنگین مداخلت ہے۔‘

اہلکار نے مزید کہا کہ عرب لیگ کی تجاویز شامی عوام کے مفاد میں نہیں ہیں اور یہ ملک میں سیاسی اصلاحات اور بحران میں اتحاد کا مظاہرہ کرنے اور صدر کے حق میں مظاہرے کرنے والی عوام کے لیے سلامتی و استحکام لانے کے حوالے سے پیش رفت کو روک نہیں سکتی ہیں۔

عرب لیگ کا شام میں اصلاحات کے لیے روڑ میپ

اس سے پہلے اتوار کو عرب لیگ نے حکومت اور حزبِ مخالف دونوں سے کہا کہ ملک میں خونریزی بند کی جائے۔

سعودی عرب نے شام میں عرب لیگ کے مانیٹرنگ مشن سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تھا اور دمشق پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف تشدد روکنے میں ناکام رہا ہے۔سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے بین الاقوامی سے مطالبہ کیا وہ شام پر مزید دباؤ بڑھائے۔

قطر کے فرمانروا شیخ حماد بن جاسم نے عرب لیگ کا بیان پڑھ کر سنایا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر بشار السد دو ہفتوں کے دوران اقتدار نائب صدر کو سونپ دیں تاکہ وہ حزبِ مخالف سے مناسب طریقے سے مذاکرات کر سکیں اور دو ماہ کے اندر قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل دی جائے۔

شیخ حماد نے کہا کہ عرب لیگ تبدیلیوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حمایت بھی چاہے گی۔ ’لیکن ہم فوجی حل کی بات نہیں کر رہے۔‘

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ صدر بشار السد عرب لیگ کی بات ماننے سے انکار کر دیں اور کہیں کہ ان کا اپنا اصلاحات کا ایجنڈا ہے۔

اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جا رہا تھا کہ مبصرین شام میں ایک مہینہ مزید قیام کریں۔

عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ کے اجلاس میں شام میں تشدد روکنے کے لیے مزید اقدامات پر غور کیا گیا۔

عرب لیگ نے شام میں اپنے مبصرین کا مشن بھیجا تھا جو تنقید کی زد میں ہے اور اس پر الزام ہے کہ اس نے شام کی حکومت کے دباؤ میں آ کر تشدد کو رکوانے میں کوئی خاص اقدام نہیں کیا ہے۔

عرب لیگ کے مشن کے شام کے دورے کی معیاد جمعرات کو ختم ہو گئی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ جب سے مانیٹرنگ مشن شروع ہوا ہے اس وقت سے لے کر اب تک تقریباً ایک ہزار افراد ملک میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

عرب لیگ کے اجلاس سے قبل شامی قومی کونسل کے سربراہ برہان غالیون نے عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی تھی جس میں انہوں نے خبردار کیا تھا کہ وہ عرب لیگ کے مبصرین کی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کر دیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’شامی قومی کونسل کے خیال میں جن حالات میں اور جتنے محدود وسائل کے ساتھ عرب لیگ کے مبصرین نے کام کیا اُن کی وجہ سے ایک جامع رپورٹ سامنے آنا ممکن نہیں جو شامی عوام، وہاں کے حالات اور بین الاقوامی رائے کی درست عکاسی کرے۔ ہم نے بتا دیا ہے کہ اگر اجلاس میں کوئی رپورٹ پیش کی گئی جو ہمارے خیال میں جامع نہیں ہو سکتی، ہم اسے مسترد کر دیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں گزشتہ دس ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک تقریباً پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

اس سے قبل شام میں حزبِ اختلاف کی قومی کونسل نے باضابطہ طور پر عرب لیگ سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کے بحران کا معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس بھیجے۔

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں کونسل کی ایک ترجمان بسماء الکدامنی کا خیال تھا کہ اگر عرب لیگ یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں اٹھائے گی تو شام کے خلاف پابندیوں کی مخالفت کرنے والے ملکوں چین اور روس کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنا پڑے گا۔

شہزادہ سعود الفیصل نے ریاض کے مشن سے علیحدگی اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ شام کی حکومت نے اس عرب امن منصوبے پر عمل نہیں کیا جس کے بارے میں اس نے مشن کے شام میں آنے سے پہلے رضامندی ظاہر کی تھی۔

’ہم بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ذمہ داری پوری کرے، اور اس میں اسلامی ریاستوں میں ہمارے بھائی اور روس، چین، یورپ اور امریکہ میں ہمارے دوست شامل ہیں۔‘

دریں اثناء شام میں باغیوں کا کہنا ہے کہ جنگجوؤں نے دمشق کے نواحی علاقے دُوما میں شدید جھڑپوں کے بعد سرکاری فوج کو علاقے سے باہر دھکیل دیا ہے۔

اسی بارے میں