لندن کا بگ بین بائیں جانب جھکنے لگا

برطانوی پارلیمان کی ایک کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ویسٹ منسٹر محل پر مرمت کا کام سنہ دو ہزار بیس تک شروع نہیں کیا جائے گا۔

تعمیراتی ماہرین نے حال ہی میں عمارت کا معائنہ کیا تھا اور اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ پارلیمنٹ کا گھنٹہ گھر جو بگ بین کے نام سے مشہور ہے، ایک طرف جھک رہا ہے۔

برطانوی ایوانِ زیریں یا ہاؤس آف کامن کے کمیشن کا کہنا ہے کہ اہلکار اس معاملے پر تو غور کر سکتے ہیں کہ عمارت کی مرمت کیسے ہونی ہے مگر مرمت کا کام آنے والی پارلیمان سے پہلے شروع نہیں ہو سکتا۔

کمیشن نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عمارت کے ڈھانچے کی ساخت مضبوط و مستحکم ہے۔

بگ بین نامی گھنٹہ گھر سنہ اٹھارہ سو انسٹھ میں قائم کیا گیا۔

اس کے بعد اس کے نیچے پانچ منزلہ گاڑیوں کی پارکنگ اور جوبلی نامی زیرِ زمین ٹرین کی پٹری بھی بچھائی گئی۔

اکتوبر میں امپیریل کالج لندن کے تعمیراتی ماہر پروفیسر جون برلینڈ نے جنہوں نے گاڑیوں کی پارکنگ کی تعمیر کی نگرانی کی تھی، اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ گھنٹہ گھر کا برج ایک جانب جھک رہا ہے تاہم اس کا جھکاؤ دس ہزار سال تک باعثِ تشویش نہیں بنے گا۔

پروفیسر برلینڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ برج انتہائی کم رفتار سے جھک رہا ہے اور اس سے وقتی طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے۔

ویسٹ منسٹر محل میں کچھ شگاف پڑنے کا بھی مسئلہ ہے۔

پروفیسر برلینڈ نےاس بارے میں کہا ’ایسی عمارت ہو ہی نہیں سکتی جو پرانی بھی ہو اور اس میں شگاف نہ ہو بلکہ شگاف تو مفید ہو سکتے ہیں۔ یہ عمارت جوبلی ٹرین کی پٹری بننے کی وجہ سے زیادہ درجہِ حرارت کے اتار چڑہاؤ سے ہلتی ہے ۔ اگر یہ شگاف نہ ہوتے تو اس عمارت کو اور نقصانات ہو سکتے تھے۔‘

ہاؤس آف کامنز کمیشن نےاپنے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ دونوں ایوانوں کے ممبران کو عمارت کی مرمت کے کاموں کے لیے ایک سالہ ابتدائی تحقیق کرنی چاہیئے۔

اس سلسلے میں آئندہ الیکشن (سنہ دو ہزار پندرہ) کے بعد جو بھی تجاویز پیش کی جائیں گی ان پر دو ہزار بیس تک کام نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ چھیانوے میٹر اونچے بگ بین کو پہلے بھی مسائل کا سامنا رہا ہے۔

سنہ انیس سو چھہتر میں گھڑی کا مکینکی نظام خراب ہو گیا تھا جس کی وجہ سے بگ بین گھڑی تقریباً نو مہینے خراب رہی تھی۔

اگرچہ بگ بین برج کا جھکاؤ اٹلی کے پیسا برج کی طرح واضح نہیں پھر بھی دیکھنے سے معمولی جھکاؤ کا پتا چلتا ہے۔

پروفیسر برلینڈ کا کہنا تھا ’اگر آپ پارلیمنٹ سکوائر میں کھڑے ہو کر برج کی جانب دیکھیں تو آپ کو بائیں جانب معمولی جھکاؤ نظر آئے گا مگر میں اس پر کوئی سیاسی رنگ نہیں ڈالوں گا۔‘

انہوں نے کہا کہ میرے حساب کے مطابق اس کو پیسا ٹاور جتنا جھکنے کے لیے دس ہزار سال لگیں گے۔

اسی بارے میں