گلف مبصرین کی واپسی کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

خلیج کے عرب ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام بھیجےگئے عرب لیگ کے مبصر مشن میں شامل اپنے ارکان کو واپس بلا رہے ہیں۔

خلیج تعاون کی کونسل نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی حکومت پر اپنے مخالفین کے خلاف طاقت کا استعمال روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

خلیج تعاون کونسل نے یہ فیصلہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی طرف سے اقتدار سے علیحدہ ہو کر عام انتخابات کرانے کے عرب لیگ کے منصوبے کو رد کیے جانے کے بعد کیا ہے۔

شام کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کچھ عرب ممالک اس سازش میں شامل ہو گئے ہیں جو شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

خلیج تعاون کونسل کے اعلان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شام کے وزیر خارجہ ولید معلم نے کہا کہ شام کے خلاف نئی سازش میں عرب اور یورپی ممالک مل گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ممالک شام میں حکومت مخالف عناصر کی پشت پناہی کر رہے ہیں جو مسلح حملوں اور تخریب کاری کے واقعات میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عرب ملکوں نے عرب لیگ کے مبصر مشن کی رپورٹ کے ان حصوں کو نظر انداز کر دیا ہے جس میں مبصر مشن نے کہا تھا کہ گزشتہ دسمبر میں شام میں ان کی آمد کے بعد کئی علاقوں میں پرتشدد واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

وزیر خارجہ ولید معلم نے شام میں حکومت مخالف عناصر کی سرکوبی کے لیے شروع کی گئی کارروائی بند کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ گزشتہ ایک برس میں حکومت مخالف گروہوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق پانچ ہزار کےقریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ولید معلم نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں گڑ بڑ پھیلانے والے مسلح عناصر کے خلاف کارروائی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

حکومت ملک میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کا ذمہ دار ان مسلح عناصر کو قرار دیتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان عناصر کی کارروائیوں میں دو ہزار کے قریب سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں