شام: مبصرین کے قیام میں ایک ماہ کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شام میں گزشتہ سال مارچ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شام میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شام عرب لیگ کے مبصرین کے مشن کو ایک ماہ کی توسیع دینے پر رضامند ہو گیا ہے۔

شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی صنعاء نیوز کے مطابق شامی وزیر خارجہ ولید نے حکومت کے فیصلے کے بارے میں عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل کو آگاہ کر دیا ہے۔

فیصلے کے مطابق مبصرین اب آئندہ ماہ فروری کی 23 تاریخ تک شام میں اپنے مشن کو جاری رکھ سکیں گے۔

بیروت میں بی بی سی کے نامہ نگار جم میئور کا کہنا ہے کہ شام کی جانب سے مبصرین کے مشن میں توسیع کا اعلان حیران کن ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس اعلان سے کچھ دیر قبل ہی شامی وزیر خارجہ نے ایک نیوز کانفرس میں مبصرین کے مشن اور عرب لیگ کے اتوار کو اعلان کردہ امن منصوبے کو ایک واضح امتیاز قرار دیا تھا۔

دریں اثناء شام میں حکومت مخالف مظاہرین کی ایک کمیٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کو ملک کے مختلف حصوں میں ساٹھ کے قریب افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کمیٹی کے مطابق چالیس کے قریب ہلاکتیں حمص میں ہوئیں ہیں جبکہ ان واقعات میں پانچ منحرف فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں گزشتہ دس ماہ سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

حکومت ملک میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کا ذمہ دار ان مسلح عناصر کو قرار دیتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ان عناصر کی کارروائیوں میں دو ہزار کے قریب سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

مبصرین کی واپسی کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس سے پہلے خلیج کے عرب ممالک نے اعلان کیا ہے کہ وہ شام بھیجےگئے عرب لیگ کے مبصروں کے مشن میں شامل اپنے ارکان کو واپس بلا رہے ہیں۔

خلیج تعاون کی کونسل نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کی حکومت پر اپنے مخالفین کے خلاف طاقت کا استعمال روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

خلیج تعاون کونسل نے یہ فیصلہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی طرف سے اقتدار سے علیحدہ ہو کر عام انتخابات کرانے کے عرب لیگ کے منصوبے کو رد کیے جانے کے بعد کیا ہے۔

شام کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ کچھ عرب ممالک اس سازش میں شامل ہو گئے ہیں جو شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

خلیج تعاون کونسل کے اعلان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے شام کے وزیر خارجہ ولید معلم نے کہا کہ شام کے خلاف نئی سازش میں عرب اور یورپی ممالک مل گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ممالک شام میں حکومت مخالف عناصر کی پشت پناہی کر رہے ہیں جو مسلح حملوں اور تخریب کاری کے واقعات میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عرب ملکوں نے عرب لیگ کے مبصر مشن کی رپورٹ کے ان حصوں کو نظر انداز کر دیا ہے جس میں مبصر مشن نے کہا تھا کہ گزشتہ دسمبر میں شام میں ان کی آمد کے بعد کئی علاقوں میں پرتشدد واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔

وزیر خارجہ ولید معلم نے شام میں حکومت مخالف عناصر کی سرکوبی کے لیے شروع کی گئی کارروائی بند کرنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔

ولید معلم نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں گڑ بڑ پھیلانے والے مسلح عناصر کے خلاف کارروائی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

اسی بارے میں