نسل کشی سے انکار کے بل پر ترکی کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترکی اور فرانس نیٹو اتحادی بھی ہیں

ترکی کے وزیر اعظم نے فرانسیسی پارلیمنٹ کی جانب سے پہلی جنگ عظیم کے دوران آرمینیائی باشندوں کی ’نسل کشی‘ سے انکار کو جرم قرار دینے کے فیصلے کو ’نسلی تعصب‘ قرار دیا ہے۔

ترکی کی وزارتِ خارجہ نے اس فیصلے کو نسل پرستی قرار دیتے ہوئےاس کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔

آرمینیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو پندرہ اور سولہ کے درمیان پندرہ لاکھ آرمینیائی باشندوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ترکی نے آرمینیائی باشندوں کے قتل کو نسل کشی قرار دینے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بہت کم تھی۔

فرانس کی سینیٹ سے منظوری کے بعد یہ بل اب صدر نکولس سرکوزی کو دستخط کے لیے پیش کیا جائے گا جس کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سرکوزی اس بل پر فروری کے آخر تک دستخط کر دیں گے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فرانس کے اس اقدام کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ترکی اور فرانس نیٹو اتحادی بھی ہیں۔

ترک پارلیمان کی وزارتِ خارجہ کی کمیٹی کے سربراہ ویلکان بوزکیر نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ فرانس نے تاریخ کا کالا صفحہ کھول دیا ہے۔

فرانس میں ترکی کے سفیر نے کہا کہ اس بل کی منظوری سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

ترکی کا کہنا ہے کہ سنہ انیس سو پندرہ اور سولہ کے درمیان جو بھی ہوا اس کا فیصلہ تاریخ دانوں پر چھوڑ دیا جانا چاہیے جبکہ فرانس کا نیا قانون آزادی اظہار کو محدود کر دے گا۔

دوسری جانب ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردگان منگل کو ہونے والے پارلیمان کے اجلاس کے موقعہ پر فرانس کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی کا خاکہ پیش کریں گے۔

اسی بارے میں