ایران پر پابندیاں، تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تنبیہہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے تیل خریدنے پر پابندی لگنے کی صورت میں خام تیل کی قیمتوں میں بیس سے تیس فیصد تک اضافہ ہو جائے گا۔

آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کی جانب سے ایران پر مالیاتی پابندیاں لگنا تیل کی ناکہ بندی کے مترادف ہو گا اور اس صورت میں منڈیوں کے لیے اتنا ہی بڑا دھچکا ہو گا جتنا کہ گزشتہ سال لیبیا میں انقلاب کے دوران تھا۔

ایران اس وقت دنیا میں تیل کی کل پیداوار کا پانچ فیصد پیدا کرتا ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اگر ایران خیلج میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو روکنے کی دھمکی پر عمل کرتا ہے تو اسے کے زیادہ سنگین نتائج برآمد ہونگے۔

خیال رہے کہ خلیج فارس کے اس اہم بحری راستے سے دنیا بھر کی تیل کی ضروریات کا بیس فیصد حصہ گزرتا ہے اور حال ہی میں اپنی دھمکی کے بعد ایران نے اس علاقے میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے کئی تجربات بھی کیے ہیں اور امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنا بحری بیڑا اس علاقے میں دوبارہ نہ بھیجے۔

آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق طرف ایران کی امریکہ کے ساتھ اور دوسری طرف یورپ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کے خطرے کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

یورپی یونین کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی پابندیوں کے تحت ایران سے تیل برآمد کے تمام نئے معاہدے ختم کر دیے جائیں گے جبکہ موجودہ معاہدے کا احترام صرف رواں سال یکم جولائی تک کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یورپی یونین نے ایران پر پابندیاں اس کے جوہری پروگرام کے باعث عائد کی ہیں۔ دوسری جانب ایران نے جوہری ہتھیار تیار کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلے کا حل پابندیاں نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔

اسی بارے میں