لیبیا میں قیدیوں کو تشدد کا سامنا:ایمنسٹی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیبیا میں قذافی دور کے خاتمے کے تین ماہ بعد بھی مسلح گروپوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے

حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ لیبیا میں حراستی مراکز میں قید افراد پر جنگجو گروہوں کی جانب سے تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

تنظیم کے مطابق اس نے طرابلس، مصراتہ اور دیگر شہروں میں ایسے مریض دیکھے ہیں جن کے سر، کمر اور دیگر اعضاء پر زخم موجود تھے۔

ادھر ایک اور امدادی تنظیم میڈیسن ساں فرنٹیئرز نے مصراتہ میں ایک سو پندرہ ایسے مریضوں کے علاج کے بعد اپنا آپریشن معطل کرنے کا اعلان کیا ہے جن پر تشدد کیا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے ان حالات پر تشویش ہے جن میں مریضوں کو رکھا جا رہا ہے۔

ایمنٹسی کے ترجمان ڈوناٹیلا رویرا کا کہنا ہے کہ ’اس تشدد میں حکومتی سطح پر تسلیم شدہ مسلح ملیشیا کے علاوہ ایسے مسلح گروہ بھی ملوث ہیں جو کسی قانونی ڈھانچے کے تحت کام نہیں کر رہے‘۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’حراستی مراکز کو کنٹرول کرنے کے تمام وعدوں کے باوجود یہ خوفناک بات ہے کہ اب تک تشدد کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا‘۔

میڈیسن ساں فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ ان کی امدادی سرگرمیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا اور ان کے پاس لائے جانے والے کچھ مریض حراستی مراکز سے دورانِ تفتیش لائے گئے تھے۔

تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل کرسٹوفر سٹوکس کا کہنا ہے کہ ’ہمارا کام تشدد کا شکار بننے والے مریضوں کا بار بار علاج کرنا نہیں بلکہ جنگ میں زخمی ہونے والوں یا بیمار قیدیوں کو طبی امداد فراہم کرنا ہے‘۔

انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کی اعلٰی اہلکار نوی پلے کا کہنا ہے کہ لیبیا میں مسلح گروہوں نے ساٹھ کے قریب حراستی مراکز میں ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد افراد کو قید کیا ہوا ہے جن میں سے بیشتر پر سابق حکمران کرنل قذافی کے وفادار ہونے کا الزام ہے۔

نوی پلے کا کہنا ہے کہ ’کسی مرکزی اتھارٹی کی جانب سے معاملے پر نظر نہ رکھنا تشدد اور برے سلوک کے ماحول کا موقع فراہم کرتا ہے‘۔

لیبیا میں قذافی دور کے خاتمے کے تین ماہ بعد بھی مختلف علاقوں میں مسلح گروپوں کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور لیبیا کے عبوری قائد مصطفٰی عبدالجلیل نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مسلح گروپوں سے ہتھیار نہ لیے گئے تو ملک میں خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔

اسی بارے میں