اسرائیل، فلسطین مذاکرات میں عدم پیش رفت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر محمود عباس آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں عرب لیگ سے ملیں گے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کے سلسلے میں ہونے والی بات چیت کسی پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہو گئی ہے۔

اردن کے فرمانرواں شاہ عبداللہ سے عمان میں ملنے کے بعد انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ اگلے ہفتے مستقبل کے لائحۂ عمل کے بارے میں عرب لیگ سے بات کریں گے۔

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں، دونوں پر عالمی سطح پر دباؤ ہے کہ وہ دو ریاستی حل پر مذاکرات دوبارہ شروع کریں۔

یہ مذاکرات سنہ دو ہزار دس میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے مسئلے پر اختلافات کی وجہ سے معطل ہوگئے تھے۔

سنہ انیس سو سڑسٹھ میں مشرقی یروشلم اور غربِ اردن پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے وہاں ایک سو یہودی بستیاں تعمیر کی گئی ہیں جن میں تقریباً پانچ لاکھ یہودی رہائش پذیر ہیں۔ یہودی بستیوں کی تعمیر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے تاہم اسرائیل اس موقف سے اختلاف رکھتا ہے۔

سرحدی تجاویز

فلسطینی اور اسرائیلی وفود گزشتہ ہفتوں کے دوران پانچ مرتبہ اردن کے دارالحکومت عمان میں ملے جس کا مقصد جامع مذاکرات کی بحالی کے ممکنہ طریقوں پر غور کرنا تھا۔

محمود عباس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر دونوں حریف سرحدوں کا تعین کر لیں تو مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں مگر اسرائیل ایسا نہیں کرتا۔

بی بی سی کے وائر ڈیویز نے یروشلم سے بتایا کہ بدھ کو محمود عباس کے بیان کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذاکرات ناکام رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہودی بستیوں کی تعمیر مذاکرات کی بحالی میں رکاوٹ ہیں۔

مشرقِ وسطٰی میں ثالثی کرنے والے چار بڑے ممالک یعنی امریکہ، اقوام متحدہ، یورپی یونین اور روس نے گزشتہ سال امید ظاہر کی تھی کہ فریقین سرحدی اور سیکیورٹی معاملات پر تفصیلی تجاویز پیش کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ بات چیت کے آغاز سے براہِ راست امن مذاکرات ایک بار پھر شروع ہونے کا امکان ہو گا۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی تجاویز جمع کرا دی ہیں جبکہ اسرائیل نے اب تک تجاویز نہیں دی ہیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک دستاویز جمع کی ہے جس میں زیرِ بحث معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے مگر وہ انہیں تجاویز نہیں کہنا چاہتے۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کی ایک شرط یہ ہے کہ اسرائیل اپنی بستیوں کی تعمیرات کو روکے۔

ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ چاروں عالمی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود تجربہ کار مبصرین کی جانب سے عمان میں کسی خاطر خواہ پیش رفت کی امید نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر محمود عباس اور اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامن نیتن یاہو کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے البتہ ظاہری طور پر امن و امان نظر آ رہا ہے تاہم دونوں فریق ایک دوسرے سے اس قدر دور شاید ہی کبھی ہوئے ہیں۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے اسرائیل کو آبادیوں کی تعمیر روکنا ہو گی جبکہ اسرائیل کا موقف ہے کہ مذاکرات کی ابتداء مشروط نہیں ہو سکتی۔

اسی بارے میں