ملازمت کے دوران پاجامہ پہننے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ فیصلہ لوگوں کی جانب سے شکایات آنے کے بعد کیا گیا

ڈبلن میں قائم ایک سماجی و فلاحی ادارے نے ملازمت کے لیے انٹرویو دینے والوں پر پاجامہ پہننے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

دفتر کی جانب سے ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ کمیونٹی کی فلاحی خدمات کے دوران بھی پاجامہ پہننا موزوں لباس نہیں ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ لوگوں کی جانب سے شکایات آنے کے بعد کیا گیا۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ رات کو سونے کے لیے استعمال ہونے والے کپڑوں نے ہیڈ لائنز نہ بنائی ہوں۔

دو سال پہلے سینٹ میتھیوز پرائمری سکول بیلفاسٹ کی جو مک گینز نے والدین کو ایک خط کے ذریعے تنبیہ کی تھی کہ بچوں کو پاجامہ پہنا کر سکول بھیجنا بداخلاقی ہے۔

گزشتہ سال مڈلبرو انگلینڈ کی سکول ہیڈ ٹیچر نے بھی والدین سے بچوں کو مکمل لباس میں سکول بھیجنے کو کہا تھا۔

پاجامہ پہننے کا مسئلہ اس وقت بہت نمایاں ہوا جب کارڈِف میں ٹیسکو سٹور کی انتظامیہ نے سٹور میں آنے والے گاہکوں کو پاجامہ اور ننگے پاؤں خریداری کرنے سے منع کر دیا۔

بی بی سی کے پروگرام ٹاک بیک سے بات کرتے ہوئے امیج کنسلٹنٹ بلی ڈکسن نے کہا کہ انہیں ٹیسکو انتظامیہ کا پاجامہ پہن کر خریداری نہ کرنے کا یہ فیصلہ سمجھ نہیں آیا۔ تاہم انہوں نے ڈبلن کے فلاحی دفتر کے فیصلے کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا ’پاجامے کا تعلق دراصل اس لباس سے ہے جو لوگ گھروں میں رات کو سوتے وقت پہنتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ ملازمت چاہتے ہیں تو اس کے لیے آپ کو مکمل لباس پہننا پڑے گا۔