سلامتی کونسل میں شام کے مسئلے پر بحث

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے بارے میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں عرب لیگ کے اس منصوبے کی حمایت کی بات کی گئی ہے جس کے تحت صدر الاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ادھر شامی صد بشار الاسد کے حامی اور سلامتی کونسل کے مستقل رکن روس کا کہنا ہے کہ وہ ایسے کسی مسودۂ قرارداد کو قبول نہیں کرے گا جس میں صدر الاسد کے مستعفی ہونے کی بات کی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے انٹرفیکس کے مطابق روس کے نائب وزیرِ خارجہ گیناڈی گیٹیلوو نے کہا ہے کہ ’ ہم سلامتی کونسل کی کسی قرارداد میں صدر اسد کی اقتدار سے علیحدگی کے کسی بھی مطالبے کی حمایت نہیں کر سکتے‘۔

سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد کا زیادہ تر حصہ عرب لیگ کے تجویز کردہ اس منصوبے پر مشتمل ہے جس میں صدر بشار الاسد سے کہا گیا ہے کہ وہ اقتدار اپنے نائب کو منتقل کر دیں جو اپوزیشن کی مدد سے دو ماہ میں ایک قومی حکومت تشکیل دیں۔

قرارداد کے مطابق اگر شامی حکومت اقتدار کی منتقلی کے اس مطالبے کو نہیں مانتی تو اس کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ روس سمیت سلامتی کونسل کے کئی ارکان کو خدشہ ہے کہ شام میں بیرونی مداخلت خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ فسادات کو جنم دے سکتی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق یہ بھی واضح نہیں کہ قرارداد کے مسودے میں روس کے خدشات دور کیے گئے ہیں یا نہیں۔ سلامتی کونسل اس قرارداد پر آئندہ ہفتے ہی ووٹنگ کرے گی۔

جرمن وزیرِ خارجہ گوئیڈو ویسٹر ویل کا کہنا ہے کہ ’یہ سلامتی کونسل کےلیے موقع ہے کہ وہ شام پر واضح موقف پیش کرے اور اس سلسلے میں پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے‘۔

یہ قرارداد ایک ایسے وقت پیش کی گئی ہے جب شام کے دورے پر جانے والے عرب لیگ کے مبصرین کے وفد کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک میں حالیہ دنوں میں پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

جنرل مصطفٰی الدبی کا کہنا ہے کہ یہ تشدد فریقین کے درمیان مذاکرات کے آغاز کو مزید مشکل بنا دے گا۔

حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم گروپوں کے مطابق شام میں گزشتہ دو دن کے دوران ایک سو پینتیس افراد مارے گئے ہیں۔

دمشق میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکومت ان علاقوں کا کنٹرول کھوتی جا رہی ہے جہاں باغیوں کا زور ہے۔ بی بی سی کے جیریمی بوئن کا کہنا ہے کہ باغیوں نے کچھ علاقوں میں چیک پوائنٹس قائم کر لیے ہیں اور وہ دوما اور صقبہ کے علاقوں میں آزادانہ طور پر حرکت کر رہے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق حکومتی افواج اگرچہ ان علاقوں میں موجود ہیں لیکن بظاہر یہ علاقے ان کے زیرِ اثر نہیں ہیں۔

جمعہ کو ہزاروں افراد نے صقبہ میں ایک ایسے حکومت مخالف شخص کے جنازے میں شرکت کی جسے جمعرات کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ افراد نعرے لگا رہے تھے کہ ’بےعزت ہونے سے موت بہتر ہے‘۔

شام میں گزشتہ دو دن کے دوران تشدد کا مرکز حمص رہا ہے۔ حقوقِ انسانی کے کارکنوں کے مطابق جمعرات کو حمص پر بمباری کی گئی جس میں تیس سے زیادہ افراد مارے گئے۔

جمعہ کو بھی حمص سے مزید ہلاکتوں کی اطلاعات ملی ہیں جبکہ قریبی شہر حما سے بھی دھماکوں اور بھاری ہتھیاروں کی فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔

شام میں حقوقِ انسانی کے لیے سرگرم نیٹ ورک مقامی رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں جمعرات اور جمعہ کو ایک سو پینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

عرب لیگ کے چیف مبصر جنرل دابی کا کہنا ہے کہ تشدد میں گزشتہ دو دن میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے ہفتۂ رواں میں ہی کہا تھا کہ عرب لیگ کا مشن شام میں تشدد کم کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔

خیال رہے کہ عرب لیگ کے مبصر مشن کے شام میں قیام کے دورانیے میں فروری کے آخر تک کی توسیع کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں