شام: تشدد جاری، عرب لیگ کا مبصر مشن معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تشدد کے تازہ واقعات میں مزید ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں

عرب لیگ نے شورش زدہ عرب ملک شام میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد وہاں تعینات اپنے مبصرین کے مشن کی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ تشدد کے تازہ واقعات میں مزید تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں اور مرنے والوں میں کئی فوجی بھی شامل ہیں۔

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے مبصرین شام میں ہی موجود رہیں گے لیکن عارضی طور پر اپنا کام روک دیں گے۔

شام میں حزبِ اختلاف کے مرکزی گروپ شامی قومی کونسل نے کہا ہے کہ وہ اتوار کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے تحفظ کا مطالبہ کریں گے۔

شام کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ ملکی افواج ملک کو بدمعاشوں سے پاک کرنے اور قانون کی عملداری قائم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

عرب ملکوں کی تنظیم نے پچھلے مہینے دسمبر میں اپنا مبصر مشن شام بھیجا تھا تاکہ وہ شام میں تشدد کے خاتمے کے لیے اپنے تجویز کردہ منصوبے پر شامی حکومت کی پیش رفت کی نگرانی کرا سکے۔

اس وفد کے شام میں موجود ہونے کے باوجود وہاں تشدد نہیں تھم سکا جس کے بعد کئی عرب ملکوں نے مشن میں شامل اپنے مبصرین کو واپس بلا لیا تھا۔

بعدازاں مبصر مشن کے شام میں قیام کے دورانیے میں فروری کے آخر تک کی توسیع کر دی گئی تھی۔شام کی حزب اختلاف نے اس مشن کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کرتی رہی ہے۔

جمعہ کو اس عرب مبصر مشن کے سربراہ نے کہا تھا کہ شام میں حالیہ دنوں میں پرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جنرل مصطفٰی الدبی کا کہنا ہے کہ یہ تشدد فریقین کے درمیان مذاکرات کے آغاز کو مزید مشکل بنا دے گا۔

شام کے انسانی حقوق اور حزب اختلاف کے کارکنوں کے مطابق پچھلے دو دنوں کے دوران تشدد کے واقعات 135 لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں پچھلے سال مارچ سے لے کر جب سے صدر بشارالاسد کی شخصی آمریت کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اب تک پانچ ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں