بیس سالہ چور، پینسٹھ وارداتوں میں ملوث

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مجھے علم ہے کہ جو کچھ میں نے کیا وہ غلط ہے: کالٹن حارث مور

امریکہ میں ننگے پاؤں وارداتیں کرنے والے بدنامِ زمانہ بیس سالہ چور کو وفاقی جج نے ساڑھے چھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

کالٹن حارث مور کو گزشتہ ماہ ریاستی جرائم میں ملوث ہونے پر سات برس قید کی سزا سنائی گئی تھی اور انہیں دوبارہ سی ایٹل کی وفاقی عدالت نے ساڑھے چھ برس کی سزا سنائی۔

انہیں دونوں سزائیں ایک ساتھ ہی بھگتنا ہوں گی۔

وہ امریکی ریاستوں واشنگٹن، اوریگن، آئڈاہو، انڈیانا، نیبراسکا، اور کینیڈا کے چند علاقوں میں پینسٹھ وارداتوں کی تفتیش میں مطلوب تھے۔

کالٹن کا نام بین الاقوامی اخبارات کی سرخیوں میں اس وقت آیا جب وہ دو سال تک پولیس کو جُل دیتے ہوئے کاریں، کشتیاں اور یہاں تک کہ جہاز بھی چراتے رہے۔

انہوں نے اپنی زندگی پر فلم بنانے کے جملہ حقوق اور اس کے نتیجے میں ہونے والی آمدنی سے ان کی وارداتوں کے متاثرین کا ازالہ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

کالٹن ننگے پاؤں وارداتیں کرتے تھے اور اسی لیے ان کے پاؤں کے فنگرپرنٹ موقعۂ واردات سے ملے جس کے باعث لوگ انہیں ’ننگے پاؤں والا چور‘ کے نام سے جاننے لگے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا ’جو کچھ میں نے کیا اسے بہادری کہا جا سکتا ہے اور یہ گمان نہیں کہ میں اتنا خوش قسمت ہوں کہ زندہ ہوں، میں واقعی خوش قسمت ہوں ورنہ میں کئی برس پہلے ہی مرچکا ہوتا۔‘

کالٹن اپنی دو سالہ مفروری کے دوران خبروں میں رہے اور انہیں سنہ دو ہزار دس میں بہامس میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب حکام نے ان کی اُس کشتی کی موٹر کو فائر کرکے تباہ کردیا جس میں وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

انہوں نے بہامس پہنچنے سے پہلے ملک کے کئی حصوں میں کاریں چرائیں، ریاست انڈیانا میں ایک طیارہ چرایا اور کشتیاں بھی چرائیں۔ انہوں نے جہاز اڑانے کی کوئی باضابطہ تربیت حاصل نہیں کی تھی لہذٰا طیارہ اڑانے کے بعد انہیں جزیرہ کیریبیئن میں ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی۔

وفاقی عدالت میں استغاثہ نے کالٹن کی وہ ای میل بھی پیش کیں جن میں انہوں نے اپنے جرائم پر ناز اور حکام کی تذلیل کرنے کا ذکر کیا تھا۔

ای میل کے ذریعے اپنی خط و کتابت میں کالٹن نے استغاثہ کو ’احمق‘، آئی لینڈ کاؤنٹی کے شیرِف کو ’سوروں کا بادشاہ‘ اور صحافیوں کو ’زہریلے کیڑے‘ گردانا ہے۔

انہوں نے جہاز چرانے کے واقعہ کو ’حیران کن‘ قرار دیا اور کہا کہ میرے اور رائٹ برادران کے علاوہ آج تک کوئی یہ معرکہ سرانجام نہیں دے سکا۔

تاہم ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکل کے بیانات بچکانہ ہیں اور اس کے پچھتاوے کی عکاسی نہیں کرتے۔

اپنی زندگی پر فلم بنانے کے جملہ حقوق کی فروخت پر اپنے ایک ای میل میں انہوں نے لکھا ’مجھے علم ہے کہ جو کچھ میں نے کیا وہ غلط ہے۔ مجھے اپنے جرائم سے متاثرہ لوگوں کی تکالیف کا احساس ہے اور میں اپنی غلطیوں کی تلافی کرنا چاہتا ہوں، مجھے اپنی حرکتوں پر ندامت ہے۔‘

ان کے جرائم کا سلسلہ سنہ دو ہزار آٹھ سے شروع ہوا جب وہ سی ایٹل میں واقع پولیس کے ایک حراستی مرکز سے فرار ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں