’تمام موضوعات پر سیر حاصل گفتگو ہوگی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی وزیرخارجہ حنا ربانی کھر افغانستان کا دورہ کریں گی

طالبان کے ساتھ امریکی اور افغانستان کی حکومتوں کے درمیان بات چیت کی بازگشت کے پس منظر میں پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر اگلے ہفتے افغانستان کا سرکاری دورہ کریں گی۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی کو بتایا ’یہ ہمارے لیے ایک اچھا موقع ہوگا کہ تمام موضوعات پر اور جتنے بھی پہلو ہیں جن میں مصالحت اور دو طرفہ تعلقات کے معاملات بھی شامل ہیں ان پر سیر حاصل گفتگو ہوگی۔‘

عبدالباسط نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ کے افغانستان کے دورے کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور دونوں ممالک مزید قریب آئیں گے۔

انہوں نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان کے عوام امن، استحکام اور خوشحالی کی طرف جائیں کیونکہ یہ ہمارے اپنے مفاد میں بھی ہے۔‘

اس سے پہلے نیویارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ طالبان کے نمائندوں اور امریکی اہلکاروں کے درمیان قطر میں ملاقاتیں اور ابتدائی مذاکرات جاری ہیں جبکہ بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ افغانستان کی حکومت اور طالبان کے درمیان اہم ملاقات سعودی عرب میں ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ اس بابت جو بھی کوشش ہوگی پاکستان اس کی حمایت کرے گا۔ جس میں تمام فریق شامل ہوں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان عبداباسط نے امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری ابتدائی مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’ہماری ہمیشہ سے ہی یہ خواہش رہی ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امن صرف طاقت کے استعمال سے نہیں آ سکتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ جس میں تمام فریق شامل ہوں۔‘

’ہمیں اس بات کا بھی شدت سے احساس ہے کہ جو بھی عمل شروع ہو اس کی سربراہی خود افغانستان کرے اور یہی ہمیشہ سے ہماری کوشش رہی ہے۔‘

وزرات خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ کہ باہر کی دنیا اس عمل میں سہولت فراہم کرسکتی ہے لیکن بلآخر جو فیصلے کرنے ہیں وہ افغانوں نے خود کرنے ہیں۔

افغان حکومت، طالبان ملاقات متوقع

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں طالبان اور افغانستان کی حکومت کے درمیان سعودی عرب میں اہم ملاقات ہونے کی توقع ہے۔

افغان اور مغربی ذرائع کے مطابق یہ اہم ملاقات قطر میں طالبان کا دفتر کھلنے سے پہلے ہو سکتی ہے۔

اس سے پہلے طالبان نے صدر کرزئی کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف امریکہ اور افغانستان کے دیگر بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ بات کریں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس ملاقات سے قیامِ امن کی امریکی کوششیں پس منظر میں چلی جائیں گی جن کے تحت قطر میں طالبان کا دفتر کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

صدر کرزئی اس بات پر برہم تھے کے قطر اور امریکہ نے ان کی حکومت سے مشورہ کیے بغیر مذکرات شروع کرنے کی کوشش کی۔ سعودی عرب کو بھی یہ بات پسند نہیں آئی۔

ان براہ راست مذاکرات کے لیے ایک متبادل مقام کے طور پر ترکی کے نام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption طالبان پہلے کرزئی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے تھے

افغانستان کی حکومت کو تشویش ہے کہ قطر میں ہونے والے مذاکرات میں ابتدائی طور پر امریکہ اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔

اسی لیے افغانستان کے حکام اب امریکہ کو نظر انداز کر کے براہ راست طالبان کے ساتھ رابطہ قائم کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے اسلام آباد سے کہا ہے کہ وہ طالبان کے متعدد رہنماؤں کو ان کے حوالے کرے اور طالبان کی کوئٹہ شوریٰ کے ساتھ رابطہ اور مذاکرات کرنے میں ان کی مدد کرے۔

امریکہ، طالبان ابتدائی مذاکرات

اس سے قبل امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کئی سابق طالبان اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حکام اور طالبان کے مذاکرات کاروں کے درمیان عرب ملک قطر میں ملاقاتوں کا آغاز ہوگیا ہے جہاں وہ اعتماد سازی کے ابتدائی مراحل اور قیدیوں کی ممکنہ منتقلی جیسے امور پر بات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ طالبان کے چار سے آٹھ نمائندوں نے پاکستان سے ہوتے ہوئے قطر تک سفر کیا ہے جہاں وہ اپنا سیاسی دفتر قائم کریں گے۔

اخبار لکھتا ہے کہ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان یہ بات عام نہیں کرنا چاہتے کہ وہ افغانستان میں جنگ کے خاتمہ کے لیے مذاکرات سے منسلک ہیں تاہم وہ ان ابتدائی مذاکرات کے پیچھے ضرور ہیں۔

امریکی حکام نے ان ملاقاتوں کے بارے میں تردید نہیں کی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان ابتدائی مذاکرات کو پاکستان کی خاموش منظوری بھی حاصل ہے۔

افغانستان کی حکومت نے پہلے تو اپنے آپ کو مذاکرات کے اس عمل سے علٰیحدہ رکھے جانے پر برہمی کا اظہار کیا تھا تاہم اب اس نے بھی اصولی طور پر اس عمل کو تسلیم کرلیا ہے لیکن وہ براہِ راست اس میں شامل نہیں ہے۔

سابق طالبان اہلکار سنیچر کو کابل میں انٹرویو کے دوران انتہائی محتاط الفاظ کا استعمال کررہے تھے اور وہ ان مذاکرات کو ’امن مذاکرات‘ کہنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

ابتدائی مذاکرات کے رکن اور طالبان دور کے سابق وزیر امربالمعروف و نہی عن المنکر، مولوی قلم الدین نے کہا ’اِس وقت کوئی امن مذاکرات نہیں ہورہے ہیں۔ ہاں ایک معاملہ پر بات ہورہی ہے اور وہ ہے گوانتانامو میں قید طالبان قیدیوں کی رہائی کی اور قطر میں فریقین کے درمیان اسی مسئلہ پر بات ہورہی ہے۔‘

ان کے بقول ’ہم بھی چاہتے ہیں کہ یہ بات چیت مستحکم ہو تاکہ اعتماد کا ماحول پیدا ہوسکے جس سے مستقبل میں بھی مذاکرات میں مدد ملے۔‘

امریکی موقف

امریکی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا ہے کہ اوباما انتظامیہ کے پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی مارک گراسمین نے افغانستان سے متعلق معاملات پر گزشتہ ہفتے اپنے قطر کے دورے کے دوران ’کئی ملاقاتیں‘ کی ہیں۔

قطر میں اپنا دفتر قائم کرنے سے متعلق طالبان کے حالیہ بیان نے افغانستان میں چند فریق اور امریکی پالیسی سازوں میں بے چینی پیدا کردی تھی جن کا کہنا تھا کہ شدت پسند مذاکرات کے بہانے جواز تلاش کررہے ہیں جبکہ وہ افغانستان میں اسلامی ریاست کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھ سکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے مارک گراسمین نے کابل میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ حقیقی امن مذاکرات اسی صورت شروع ہوسکتے ہیں جب طالبان عالمی دہشت گردی کو ترک کریں اور مسلح تصادم کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی حمایت کریں۔

ان کے بقول قطر اور افغانستان کی حکومتوں کو ایک ایسے معاہدے تک پہنچنا ہوگا جس کے تحت طالبان ایک دفتر قائم کر سکیں۔ مارک گراسمین افغانستان کی حکومت کو اس بارے میں مسلسل آگاہ رکھے ہوئے ہیں تاہم افغان حکام کو شکایت ہے کہ انہیں اس عمل سے الگ تھلک رکھا جارہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حقیقی امن مذاکرات اسی صورت شروع ہوسکتے ہیں جب طالبان عالمی دہشت گردی کو ترک کریں: مارک گراسمین

نیویارک ٹائمز نے مولوی قلم الدین اور طالبان دور کے وزیرِتعلیم ارسلا رحمانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے سابق اہلکار اس وقت قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہیں جن میں طالبان کے رہنماء ملا عمر کے سابق سیکریٹری سمیت طالبان دورِ حکومت کے سابق اہلکار بھی شامل ہیں۔

طالبان کے سابق اہلکاروں کا کہنا ہے کہ قیدیوں کی منتقلی کے بارے میں قطر میں ہونے والے مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوچکی ہے۔ طالبان کے سابق ملٹری کمانڈر سید محمد اکبر آغا نے کہا ’پہلے پانچ طالبان قیدی دو مراحل میں منتقل کیے جائیں گے، پہلے دو اور پھر تین اور باقی بعد میں۔‘

طالبان کے سابق اہلکاروں کا کہنا ہے کہ قطر میں جاری اِن ابتدائی مذاکرات میں چند ایسے طالبان کا نام نیٹو کی فہرست سے ہٹائے جانے پر بھی بات چیت ہورہی ہے جن کے لیے نیٹو نے ’قتل کرنے یا گرفتار کرنے‘ کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔

گزشتہ ہفتے مارک گراسمین نے قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر کہا تھا کہ امریکہ نے اب تک اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ یہ مسئلہ امریکی قانون کا ہے اور ہمیں اپنے قانون کے تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ اوباما انتظامیہ اس معاملے کو کانگریس میں رکھے گی۔ ان کے بقول امریکی قانون کے تحت وزیرِ دفاع کو کانگریس کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ گوانتانامو کے کسی بھی قیدی کی کسی دوسرے ملک منتقلی ضروری تقاضے پورے کرے گی جس میں یہ بھی شامل ہے کہ جس ملک کو یہ قیدی منتقل کیا جائے گا وہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ قیدی پر اس کا کنٹرول رہے گا اور وہ امریکہ کے لیے مستقبل میں خطرہ نہیں بنے گا۔

پاکستان کی مدد

ارسلا رحمانی نے طالبان کے نمائندوں کو سفری دستاویز حاصل کرنے اور قطر کے لیے طیارے میں سوار ہونے کی اجازت دینے کے پاکستانی فیصلے پر حیرت کا اظہار کیا۔ طالبان کے سابق اہلکار ایک عرصے سے یہ موقف اختیار کیے ہوئے تھے کہ پاکستان مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

مولوی قلم الدین نے کہا ’پاکستان نے یقیناً اس (عمل) کی مدد کی ہے اور کررہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے ان ابتدائی مذاکرات کی منظوری نہ دی ہوتی تو اپنے ملک سے قطر کے لیے روانہ ہونے والے طالبان کے نمائندوں کو گرفتار کرلیتا جیسا کہ اس نے طالبان کے سینئیر رہنماء ملا برادر کے ساتھ اس وقت کیا تھا جب انہوں نے سنہ دو ہزار دس میں افغانستان کی حکومت کے ساتھ خفیہ مذاکرات شروع کیے تھے۔

اسی بارے میں