جن کا دبئی افغانستان ہے

امیر حمزہ
Image caption تاجکستان میں انیس سو نوّے کی دہائی میں خانہ جنگی سے پریشان ہو کر بہت سے لوگوں نے افغانستان میں پناہ حاصل کی تھی

وسطی ایشیائی ممالک کے درجنوں شہری افغانستان میں پناہ مانگ رہے ہیں، جہاں سے پہلے ہی ریکارڈ تعداد میں لوگ پناہ کی تلاش میں سن دو ہزار گیارہ میں دوسرے ملکوں کا رخ کر چکے ہیں۔

تقریباً ایک سو کے قریب لوگوں نے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق وسطی ایشیاء سے ہے افغانستان میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دی ہے۔ ان میں سے کچھ نے اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے لیے ہائی کمیشن کے ذریعے اور کچھ نے براہ راست افغانستان کی حکومت کے پاس درخواست دائر کی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان میں سے کچھ لوگوں کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں اور کچھ کی زیر غور ہیں جبکہ کچھ کو سیاسی پناہ مل بھی گئی ہے۔

دنیا کے کسی بھی اور ملک میں یہ صورتحال شاید غیر معمولی نہ ہو لیکن افغانستان میں ایسی درخواستیں حیرت کی بات ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق افغانستان تو خود مصائب کا شکار ملک ہے اور تیس لاکھ کے قریب اس کے شہری دنیا کے پچھتر ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ دنیا میں ہر دس میں سے تین پناہ گزینوں کا تعلق افغانستان سے ہے۔

امیر حمزہ کی کہانی اس رجحان کی نفی کرتی ہے۔ ان کا تعلق تاجکستان سے ہے اور وہ کئی برس پہلے بہتر زندگی کی تلاش میں افغانستان آئے تھے۔ انہیں توقع ہے کہ ان کی شہریت کی درخواست قبول ہو جائے گی۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ افغانستان کی حکومت ابھی پناہ گزینوں اور سیاسی پناہ کے خواہشمند افراد کے لیے قانون پر کام کر رہی ہے۔

تاجکستان میں انیس سو نوّے کی دہائی میں خانہ جنگی سے پریشان ہو کر بہت سے لوگوں نے افغانستان میں پناہ حاصل کی تھی۔ ان میں سے چند افراد کے علاوہ تقریباً سب ہی لوگ بعد میں اپنے ملک واپس چلے گئے تھے۔ امیر حمزہ نے بتایا کہ ان کی شہریت ختم کر دی گئی تھی۔

افغانستان آنے والے پناہ گزینوں کو زیادہ بہتر زندگی نصیب نہیں ہوئی۔ انیس سو بانوے سے انیس سو چھیانوے تک ملک میں خانہ جنگی رہی، اور انیس سو چھیانوے سے دو ہزار ایک کے دوران طالبان کی حکومت تھی جنہوں نے اپنا دائرہ اختیار شمال کی طرف بڑھانا شروع کر دیا۔

دو ہزار ایک میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد بہت سے افغانوں کو بہتر حالات کی امید پیدا ہو گئی تھی۔ بین الاقوامی امداد کی مد میں اربوں ڈالر آئے اور کچھ برسوں تک قائم رہنے والی سکیورٹی کی نسبتاً بہتر صورتحال سے لوگوں کو سکون کا احساس ملا۔

لیکن یہ صورتحال اس وقت بدل گئی جب طالبان کی مزاحمت نے زور پکڑنا شروع کر دیا اور مغربی ممالک اور دنیا کے دوسرے حصوں سے واپس آنے والے افغانوں نے واپس جانا شروع کر دیا۔

جنوری دو ہزار گیارہ سے لے کر نومبر دو ہزار گیارہ کے درمیان تیس ہزار افغانوں نے دوسرے ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواست دی۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد سن دو ہزار دس کے مقابلے میں پچیس فیصد اور گزشتہ چار سال کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی سے قبل یورپ یا آسٹریلیا پہنچنے کے خواہشمند ہزاروں ڈالر ادا کر کے اور زندگیوں کو مشکل میں ڈال کر جنگلوں، پہاڑوں اور سمندروں میں سفر کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان میں سے بہت سے لوگوں کے نزدیک سفر کے یہ خطرات ان خطرات سے کم جن کا انہیں اپنے ملک افغانستان میں سامنا ہے۔