تیونس کے یہودی اسرائیل جانا نہیں چاہتے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جیکب لیوش تیونس کے آخری یہودی ریسٹورانٹ کے مالک ہیں

عرب سپرنگ نامی مشرقِ وسطٰی کے عوامی احتجاج کے پیشِ نظر ایک اسرائیلی وزیر کا کہنا ہے کہ تیونس میں موجود یہودیوں کو اسرائیل ہجرت کر لینی چاہیے۔

اسرائیل کی سنہ انیس سو اڑتالیس میں معرضِ وجود میں آنے سے پہلے شمالی افریقہ اور مشرقِ وسطٰی میں لاکھوں یہودی آباد تھے۔ لیکن اب باقی چھوٹی آبادیوں کی تحلیل کے مشورے کا تو یہودی خود بھی مذاق اڑاتے ہیں۔

تونیس کے شمالی مضافات میں واقع ایک چھوٹے سے ریسٹورانٹ کے مالک چوکولیٹ کی مٹھائی تیار کرتے نظر آتے ہیں۔ اس ریسٹورانٹ میں آپ کو مقامی کھانے کی دکانوں سے کوئی خاص مختلف اشیاء نہیں ملیں گی بلکہ وہی مشرقِ وسطٰی اور بحرہِ روم کے علاقوں کے کھانے نظر آئیں گے۔

لیکن اندر جا کر ذرا نظر دوڑانے پر آپ کو ایک دیوار پر بہت سی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر نظر آئیں گی۔ ان تصاویر میں ماضی کی ایک شاندار یہودی آبادی کی شادیوں اور جوڑوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ جیکب لیوش کا یہ ریسٹورانٹ تیونس کا آخری ’کوشر‘ ریسٹورانٹ ہے۔ وہ ایک یہودی بھی ہیں اور انہیں اپنے تیونسی ہونے پر فخر ہے۔ ان کے خیال میں یہ دونوں باتیں آپس میں ہرگز منافی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنا ملک چوڑنے کے لیے کوئی دباؤ محسوس نہیں کرتے اور گزشتہ اکتوبر کے تاریخی انتخابات میں انہوں نے ایک آزاد امیدوار کی حیثیت سے حصہ بھی لیا تھا۔

جیکب شام کے لیے اپنا ریسٹورانٹ کھولنے کی تیاری کے ساتھ کہہ رہے تھے ’میں کہاں جاؤں گا؟ یورپ؟ چلیے جی! میں بے وقوف نہیں۔ اسرائیل! ارے جی میں اس قدر بھی بے وقوف نہیں۔ میرے لیے یہ بہت اہمیت کا حامل ہے کہ یہاں ایک یہودی شخص انتخابات میں حصہ لے سکتا ہے اور کسی کو اس بات سے کوئی مسئلہ نہیں‘۔

تیونس کی بیشتر یہودی برادری ایک جنوبی تفریحی جزیرے پر آباد ہے جہاں غربا نامی معروف یہودی عبادت گاہ پہلی صدی عیسوی سے زیرِ استعمال ہے۔ تیونس کی بقایا یہودی آبادی دارالحکومت کے بیچ میں واقع ’گریٹ سنیگوگ‘ نامی منفرد ترین عبادت گاہ جاتی ہے۔ سنہ انیس سو تیس کی دہائی میں جب یہودی آبادی ایک لاکھ کے قریب تھی، تب یہ عالیشان عمارت بنائی گئی۔یہ عمارت باہر سے پر اثر اور اندر سے خوبصورتی سے سجی ہے مگر آج اس کا تھوڑا ہی استعمال ہوتا ہے اور عبادت بھی ایک چھوٹے سے کمرہ تک محدود رہتی ہے۔

عرب دنیا کے باقی ممالک کی طرح تیونس کی یہودی آبادی بھی اسرائیل کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد اور پھر عرب اسرائیل جنگوں کے پیشِ نظر، تیزی سے گر گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption راشد غانوچی کا کہنا ہے کہ نئے تیونس میں تمام مذاہب کا ہونا ضروری ہے۔

لیکن جب اسرائیلی وزیر سلون شیلوم نے بقیہ دو ہزار یہودیوں کو حال ہی میں اسرائیل ہجرت کا مشورہ دیا تو ان کو تلخ جواب دیا گیا۔

اطون خلیفہ کا جو کہ یہودی برادری کے ایک با اثر شخص ہیں، کہنا ہے کہ ’میں ایک تیونسی یہودی ہوں۔ میں اپنے ملک سے باخوبی واقف ہوں اور میں اس بات کے خلاف ہوں کہ ہمیں ہجرت کرنی چاہیئے کیونکہ یہاں کوئی خوفزدہ نہیں۔ میں تو شیلوم صاحب کو نہیں بتاتا کہ کہاں جائیں‘۔

گزشتہ سال آنے والے عوامی انقلاب کے بعد جس نے سیکیولر آمریت کا تختہ الٹا، بہت سے مسلمان بھی اپنے مذہبی خیالات کا اظہار کرنے کی آزادی محسوس کر رہے ہیں۔

راشد غانوچی کا کہنا ہے کہ نئے تیونس میں تمام مذاہب کا ہونا ضروری ہے۔

راشد غونوچی ایک اعتدال پسند اسلامی جماعت کے صدر ہیں جو کہ انتخابات کے بعد ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری ہے۔

اپنے مرکزی دفتر میں بیٹھ کر ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہاں آ کر یہ کوشش کی ہے کہ یہودی برادری کے تمام اہم رہنماؤں سے ملاقات کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے قوانین کے مطابق اور اس ملک کے آئین کے مطابق یہ ضروری ہے کہ تمام مذاہب کو برابر عزت دی جائے۔

عرب دنیا کے سنہ دو ہزار گیارہ کے احتجاجوں میں تیونس سب سے پہلا اور سب سے کامیاب ملک ثابت ہوا ہے۔

تین ہزار سال پرانی یہ یہودی برادری جو اس ملک میں رہنے کی نیت رکھتی ہے اور یہاں خوش بھی ہے، دوسرے یہودیوں کے لیے جو شاید واپس ہجرت کرنا چاہیے ہوں، ایک حوصلہ افزاء علامت ہے۔

اسی بارے میں