’پاکستان افغان طالبان کا براہِ راست معاون ہے‘

طالبان جنگجو(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption رپورٹ پکڑے جانے والے چار ہزار طالبان، القاعدہ، غیرملکی جنگجوؤں اور شہریوں کے ساتھ تقریباً ستائیس ہزار انٹرویو پر مبنی ہے

بی بی سی کو ملنے والی نیٹو کی ایک خفیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان کو، پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے براہِ راست مدد مل رہی ہے۔

پاکستان نے ان الزامات کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

نیٹو کی یہ رپورٹ گرفتار شدہ چار ہزار طالبان، القاعدہ کے ارکان، غیر ملکی جنگجوؤں اور شہریوں سے کیے گئے تقریباً ستائیس ہزار انٹرویوز پر مبنی ہے۔

ہزاروں افراد سے تفتیش پر مبنی اس رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کا زور ٹوٹا نہیں ہے اور انہیں افغان عوام میں بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہے۔

رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’پاکستان کو طالبان کے اہم رہنماؤں کے ٹھکانوں کا علم ہے اور پاکستان کی جانب سے طالبان کی اعلیٰ قیادت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا عمل مسلسل جاری ہے‘۔

افغانستان میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ غیر ملکی افواج اور افغانستان کی حکومت کے لیے پریشانی کا باعث ہو گی۔

پاکستان ماضی میں طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات کا پرزور انداز میں انکار کرتا رہا ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان کیپٹن جان کربی نے کہا کہ ’ہمیں ایک عرصے سے آئی ایس آئی کے کچھ حلقوں اور شدت پسند تنظیموں کے درمیان رابطوں پر تشویش رہی ہے‘۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکی محکمۂ دفاع نے نیٹو کی مذکورہ رپورٹ نہیں دیکھی۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کوئنٹن سمرویل نے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں پہلی بار پوری طرح پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور طالبان کے باہمی تعلقات سامنے لائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دستاویز میں موجود اطلاعات براہ راست مزاحمت کاروں سے بات چیت کر کے حاصل کی گئیں ہیں اس لیے اسے صرف معلومات سمجھا جائے نہ کہ تجزیہ۔

طالبان کی افغان حمایت

نیٹو کی جانب سے افغانستان کی سکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان سکیورٹی فورسز کو سونپنے کے عمل کے باوجود اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں پولیس، فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان بڑے پیمانے پر تعاون پایا جاتا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان شہری بھی بیشتر اوقات موجودہ افغان حکومت پر طالبان کے اقتدار کو ترجیح دیتے ہیں اور عموماً اس کی وجہ کرزئی حکومت کی بدعنوانی ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں افغان عوام میں طالبان کو حاصل مقبولیت کا بھی ذکر ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں جہاں القاعدہ کا اثر کم ہوا ہے وہیں طالبان کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ طالبان دانستہ چند علاقوں میں کم حملے کر رہے ہیں اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی ایک منظم مہم چلا رہے ہیں تا کہ نیٹو افواج، افغانستان سے جلد نکل جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رپورٹ میں افغان عوام میں طالبان کو حاصل مقبولیت کا بھی ذکر ہے

رپورٹ کا کہنا ہے کہ جن علاقوں سے نیٹو افواج کا انخلاء ہو چکا ہے، ان علاقوں میں طالبان اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ اکثر اوقات یہ اضافہ حکومتی اہلکاروں کی جانب سے کسی مزاحمت کے بغیر بلکہ چند علاقوں میں ان کی عملی حمایت سے ہوا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق جب افغانستان سے بیرونی افواج کا انخلاء ہوگا تو امید ہے کہ افغان فورسز اس ملک کا کنٹرول سنبھال لیں گی مگر رپورٹ کا کہنا ہے کہ افغان فوج نے تو انہیں دیا گیا اسلحہ پاکستان کے بازاروں میں بیچ دیا ہے۔

نیٹو کی اس دستاویز میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران طالبان کے مقصد کی حمایت میں اتنا اضافہ ہوا ہے جتنا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا اور ان کی حمایت کرنے والوں میں افغان حکومت کے ارکان بھی شامل ہیں۔

افغانستان میں تعینات نیٹو کی ایساف افواج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جمی کمنگز کا کہنا ہے کہ یہ ’ایک خفیہ دستاویز تھی اور اسے عوام کے سامنے پیش نہیں کیا جانا تھا‘۔ انہوں نے دستاویز کے مندرجات پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بات طے شدہ ہے کہ ایسی دستاویزات خفیہ ہوتی ہیں اور ان پر کسی حالت میں بھی تبصرہ نہیں کیا جا سکتا‘۔

بےبنیاد اور مضحکہ خیز الزام

اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا ہے ’یہ بےبنیاد اور مضحکہ خیز الزام ہے۔ ہم افعانستان میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کارفرما ہیں اور دیگر ممالک سے بھی اس اصول کی پابندی کی توقع رکھتے ہیں‘۔

انہوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ ہم ایسے مفاہمتی عمل کے حامی ہیں جس کی قیادت اور ملکیت افغانستان کے پاس ہو‘۔ ترجمان نے کہا کہ ’افغانستان میں جاری طویل تنازع سے پاکستان نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔ ایک مستحکم اور پرامن افغانستان ہمارے مفاد میں ہے‘۔

خیال رہے کہ پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر بھی بدھ کو کابل کا دورہ کر رہی ہیں۔ اس دورے میں وہ افغان صدر حامد کرزئی سے بھی ملاقات کریں گی۔ اس ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری لانا ہے۔

اسی بارے میں