امریکہ میں اسلام کے طرزِ تعمیر کا ارتقا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption واشنگٹن ڈی سی میں واقع نیشنل اسلامک سنٹر امریکہ میں اسلام کی علامت ہے۔

نائن الیون کے بعد سے امریکہ میں مساجد کی تعمیر کئی دفعہ تنازع اور کشیدگی کا سبب بنی ہے۔ کیا یہی وجہ ہے کہ نئی مسلم عبادت گاہیں اسلام کے معروف طرزِ تعمیر یعنی میناروں اور گنبدوں کے بغیر بنائی جا رہی ہیں؟

واشنگٹن ڈی سی میں واقع نیشنل اسلامک سنٹر ایک پر شکوہ عمارت ہے جس کے ساتھ اس کے اونچے اونچے مینار ہیں۔ امریکہ کی اس مشہور مسجد کے گرد ان مسلم ممالک کے جھنڈے ہیں جنھوں نے اس کی تعمیر کے لیے پیسے دیے تھے۔

اس مسجد کا ڈزائین مصر میں روایتی اور کلاسکی طرزِ تعمیر سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا۔

امریکن یونیورسٹی میں مطالعہِ اسلام کے پروفیسر اکبر احمد کا کہنا ہے کہ آج اس طرح کی مسجد بنانا ناممکن ہے کیونکہ اس سے شدید تنازع پیدا ہوگا۔

پاکستان کے برطانیہ میں سابق سفیر پروفیسر اکبر احمد کا کہنا ہے ’آج کل اسلامی طرزِ تعمیر کے لیے اچھے دن نہیں‘۔

انہوں نے کہا ’اگر آج کوئی امیر دور اندیش آدمی امریکہ میں تاج محل بنانے کی کوشش کرئے گا تو اسے خفیہ طور پر جہادی قرار دے دیا جائے گا‘۔

صدیوں سے، دنیا بھر میں مینار اور گنبد مساجد کے طرزِ تعمیر کا اہم حصہ رہے ہیں۔ مگر اب مسلم برادریاں اپنی عبادت گاہوں کے لیے نئے ڈزائینوں کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔

کچھ کا خیال ہے کہ زیادہ روبدار طرزِ تعمیر کہیں مسلم مخالف جذبات نہ پیدا کرےجبکہ کئی ایک کا خیال ہے کہ مساجد کے ڈزائینوں کے متعلق امریکہ میں بڑٌھتی ہوئی اور متنوع مسلم آبادی کی ضروریات کو سامنے رکھ کر دوبارہ سوچنے کی ضرورت ہے۔

مسلم پبلک آفیئرز کونسل کے واشنگٹن میں موجود ڈائریکٹر حارث ترین کا کہنا ہے کہ ’ میرے خیال میں شناخت کی بنیاد صرف علامتوں میں نہیں ہونی چاہیے بلکہ شناخت کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ آپ کس برادری سے ہو جو کہ آپ کی ذات سے کہیں بڑی ہوتی ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو اس وقت ایسی مساجد کی ضرورت ہے جو بڑی عمر کے لوگوں کا خیال کر سکیں اور مسلمانوں کی نئی نسل کو اپنی طرف مدعو کر سکیں۔

حارث ترین سان فرنینڈو وادی میں احسان سنٹر نامی مسجد کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ یہ مسجد خواتین اور نوجوانوں کے پروگراموں کے لیے ایک اہم مرکز کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس پر کوئی مینار نہیں۔

ان کا کہنا ہے ’آپ کے پاس ایک شاندار گنبد ہو اور ایک شاندار مینار ہو مگر صرف ایک بہت بڑی نماز کی جگہ ہو اور کچھ بھی نہ ہو تو آپ اپنی برادری کی ضروریات پوری نہیں کر رہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایمانداری کی بات کروں تو یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان مساجد جانے سے گریز کرتے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نیویارک کے جنوبی مین ہیٹن میں تجویز کردہ ’پارک اکاون‘

امریکن انسٹیٹیوٹ آف آرکیٹیٹکس کی سابق اسوسی ایٹ ڈائریکٹر ماہرِ تعمیرات مریم سکندری امریکہ میں ایک تصویری نمائش کے دورے پر ہیں جس میں امریکی مساجد کے طرزِ تعمیر کے روایتی سے جدید تک کے سفر کی عکاسی کی گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے اسلامی طرزِ تعمیر کا تاثر بہت عرصے ذاتی تشریح کا محور اور مذہبی اور تاریخی دائروں میں قید ہے۔

مکہ المکرمہ میں اسلام کی مقدس ترین عمارت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’ کعبہ کا تو نہ گنبد ہے نہ مینار۔ وہ تو ایک مکعب کی صورت ہے چنانچہ روایتی طور پر تو اسلامی طرزِ تعمیر کا مطلب تو وہ ہے‘۔

مریم سکندری ’پارک اکاون‘ کے طرف اشارہ کرتی ہیں۔ نیویارک کے جنوبی مین ہیٹن میں تجویز کردہ اس مسلم کمیونیٹی سنٹر نے بہت تنازعات کو جنم دیا کیونکہ یہ گیارہ ستمبر کے دہشتگردی کے واقعات کی جائے وقوع کے بہت قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے پارک اکاون کے ڈزائینرز نے گنبدوں اور میناروں کو اس لیے مسترد کر دیا کیونکہ مین ہیٹن کے مسلمان ایک بلند عمارت مسجد چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا ’جیومیٹری کی اشکال سے وہ خدا کی لا محدودیت کو پہچانتے ہیں جس میں کوئی مسئلہ نہیں‘۔

مریم سکندری کا کہنا ہے کہ اسلام کے اصل اصولوں پر مبنی اچھے تعمیراتی ڈزائینز سے خواتین کے لیے مقدس جگہوں تک رسائی دے کر خواتین اور مردوں کے بیچ برابری کو بہتر کیا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خانہِ کعبہ کا تو ایک مکعب کی صورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب پیغمبرِ اسلام نے مدینہ منورہ میں پہلی مسجد بنائی تو ان کا اپنا ہجرہ اس سے منسلک تھا۔

انہوں نے کہا ’خواتین کو مسجد میں آ کر عبادت کرنے کی دعوت دی گئی‘۔

مریم سکندری کے مطابق ’جب مسجدِ نبوی (مدینہ کی مسجد) کی مرمت کی گئی تو ایک ہی جگہ بنا دی گئی اور عورتیں آہستہ آہستہ باہر ہوتی گئیں۔ یہی چیز بازنطین کے طرزِ تعمیر میں ہوئی۔ گرجاؤں میں عورتوں کو شامل نہیں کیا جاتا تھا اور اگر کیا بھی جاتا تو وہ اوپر کی منزل پر ہوتی تھیں۔ یہی انداز اسلامی طرزِ تعمیر میں بھی آگیا‘۔

سابق سفیر اکبر احمد کہتے ہیں کہ وہ اسلام کے طرزِ تعمیر کو بدلنے کی کوششوں اور مساجد کو امریکی ثفاقت کے ہم آنگ لانے کی کوششوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد غیر مسلموں کے لیے اسلام کی علامت بن گئی ہے اور چنانچہ اسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا ’ اس وجہ سے مسجد صرف اینٹوں اور سیمنٹ کی سادہ عمارت نہیں بلکہ وہ امریکہ میں مسلمانوں کی شناخت اور امریکی شناخت کے بارے میں جاری بحث کی علامت ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ مسلمان برادری اس وقت چاروں طرف سے گھری ہوئی محسوس کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’میں سمجھ سکتا ہوں کہ امریکہ میں مسلمان اس وقت روایتی طرزِ تعمیر کی مساجد کیوں نہیں بنانا چاہتے جو وہ چند دہائیوں پہلے بڑے آرام سے بنا سکتے تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ آج کے امریکہ کے عکاسی کرتی ہے۔

اسی بارے میں