مصر: فٹبال میچ میں ہنگامہ آرائی، چوہتر ہلاک

میچ کے بعد ہنگامہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر حسنی مبارک کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے پولیس نسبتاً کم منظر عام پر آتی ہے

مصر میں ایک فٹبال میچ کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی میں چوہتر افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بدھ کو پورٹ سعید میں فٹبال میچ کے بعد دو ٹیموں کے حامیوں میں لڑائی ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں چوہتر افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ تاہم ان ہلاکتوں کے بعد ملک کی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا تھا اور حکمراں فوجی سپریم کونسل نے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا ہے۔

جیتنے والی ٹیم المصری کے حامی میچ ختم ہونے کے بعد میدان میں داخل ہو گئے اور ہارنے والی ٹیم الاھلی کے حامیوں پر حملہ کر دیا۔ المصری کو کمزور ٹیم سمجھا جا رہا تھا لیکن اس نے یہ میچ تین ایک سے جیت لیا۔

ٹیلی ویژن پر ہجوم کو سٹیڈیم میں اترتے اور کھلاڑیوں اور مخالف ٹیم کے حامیوں کے پیچھے دوڑتے دکھایا گیا۔ کچھ لوگ سٹیڈیم کے ان حصوں میں بھی گھِر گئے جہاں آگ لگی ہوئی تھی۔

مصر کے نائب وزیر صحت نے کہا کہ مصر کی فٹبال کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا حادثہ ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے مردہ خانے کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں کچھ سکیورٹی کے اہلکار بھی تھے۔

حکام نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ مصری پریمیئر لیگ کے تمام میچوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

سٹیڈیم میں پولیس کی خراب کارکردگی اور ناقص سکیورٹی کے خلاف ملک میں جمعرات کو احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

قاہرہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ شائقین سٹیڈیم میں اپنے ساتھ چھریاں بھی لے کر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ کی ایک وجہ میچ کے دوران معمول سے کم سکیورٹی بھی ہو سکتی ہے۔

مصر میں گزشتہ سال عوامی مظاہروں کے نتیجے میں صدر حسنی مبارک کا تحتہ الٹے جانے کے بعد سے پولیس نسبتاً کم منظر عام پر آتی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا کہ مصر میں فٹبال کے شائقین خاص طور پر ٹیم الاھلی کے حامی اپنے جارحانہ رویے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ نامہ نگار نے بتایا کہ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ حالیہ سیاسی کشمکش میں بھی کافی پیش پیش رہے ہیں۔

الاھلی ٹیم کے ایک حامی ماجدی محمد علی کو یقین ہے کہ تشدد کا یہ واقعہ منصوبے کے تحت کیا گیا۔

انہوں نے کہا ’یہ قتلِ عام ہے۔ میرا مطلب ہے، ہاں، مصری برطانوی اور اطالویوں کی طرح ہیں۔ ہاں ہمارے پاس غنڈے ہیں اور فٹبال پر لڑتے ہیں جو کہ ماضی کا قصہ بن چکا تھا لیکن قتل عام نہیں ہوتا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اتنے لوگ ہلاک ہو گئے۔ الاھلی ٹیم کے حامیوں سے چند قدم دور ہی گیٹ پر پولیس کھڑی تھی اور جب دوسرا راؤنڈ ختم ہوا اور جیسے ہی ریفری نے سیٹی بجائی، سکیورٹی فورس غائب ہو چکی تھی، یہ سب منظم انداز میں کیا گیا‘۔

مصری پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت اخوان المسلمون کا بھی کہنا ہے کہ فوجی حکمران سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام رہے کیونکہ افراتفری پھیلانا ان کے مفاد میں تھا تاکہ پرامن طریقے سے انتقالِ اقتدار کا عمل مکمل نہ ہو سکے۔