کشتی کا حادثہ، ایک سو بیس مسافر لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جمعرات کی شام تک دو سو افراد کو بچایا گیا

جزیرہ پاپوا نیوگنی میں جمعرات کو ڈوبنے والی کشتی کے ایک سو بیس سے زائد لاپتہ مسافروں کی تلاش کا کام جاری ہے۔

اس کشتی پر ساڑھے تین سو سے زائد مسافر سوار تھے جن میں سے دو سو افراد کو حادثے کے بعد پانی سے بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔

آسٹریلوی ٹی وی کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد میں سے بیشتر کشتی میں پھنس گئے تھے اور خدشہ ہے کہ وہ ہلاک ہو چکے ہیں۔

ادھر اس حادثے میں لاپتہ افراد کے لواحقین نے معلومات فراہم نہ کیے جانے پر جہازراں کمپنی کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا اور دفتر پر پتھراؤ بھی کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ کشتی پر سوار افراد میں سے بیشتر طلباء تھے جو تعلیمی سال کے آغاز پر پاپوا نیو گنی کے دوسرے بڑے شہر لائے جا رہے تھے۔

سٹار شپس نامی کمپنی کے زیرِ انتظام چلنے والی ایم وی رابائُل کوئین نامی یہ کشتی کمب اور لائے کے درمیان سفر کر رہی تھی اور اس نے جمعرات کی صبح ہنگامی پیغام دینا شروع کیا تھا۔

پاپوا نیوگنی میں بحری امور کے ادارے کے کپتان نور الرحمان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ جمعرات کو حادثے کے بعد انہیں اطلاعات ملی تھیں کہ جہاں کشتی ڈوبی ہے وہاں لوگ حفاظتی جیکٹیں پہنے تیر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جمعرات کی شام تک دو سو افراد کو بچایا گیا۔

آسٹریلیا کی وزیرِ اعظم جولیا گلارڈ نے صحافیوں کو بتایا کہ آسٹریلیا پاپوا نیوگنی کی امدادی کاموں میں مدد کر رہا ہے۔

سٹار شپس کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا کہ کشتی ڈوبنے کی وجہ خراب موسم تھی۔ سٹار شپس کا شمار پاپوا نیوگنی کی بڑی جہازراں کمپنیوں میں ہوتا ہے۔

اسی بارے میں