کمپوڈیا: سابق جیلر کو عمر قید کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کمپوڈيا میں ہزاروں قیدیوں کی ہلاکت کے الزام میں گرفتار ڈچ نامی جیلر کو اقوامِ متحدہ کی ٹربیونل نے عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔

عمر قید کی سزا انہیں ان کی جانب سے درج کی گئی ایک اپیل کے بعد سنائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ڈچ کو، جن کا پیدائشی نام کینگ گویک ایو ہے، سنہ دو ہزار دس میں کمپوڈیا میں خمیر روج کے دورِ حکومت کے دوران ایک جیل خانہ چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا جہاں ہزاروں قیدی ہلاک کیے گئے تھے۔

ڈچ نے اس بنیاد پر اپیل درج کی تھی کہ وہ سینیئر حکام کے کہنے پر کام کر رہے تھے لیکن ججوں نے ان کی اس اپیل کو مسترد کرتے ہوئے ان کی سزا پینتیس سال سے عمر قید کر دی ہے۔

انہتر سالہ ڈچ کمپوڈیا میں تول سلینگ نامی جیل کے کمانڈر تھے جہاں کم از کم پندرہ ہزار بچوں، عورتوں اور مردوں کو ریاست کا دشمن قرار دے کر ٹارچر کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا۔

جج کونگ سرم نے کہا ’کینگ گویک ایو کے جرائم بغیر کسی شک کے انسانی تاریخ کے بد ترین ہیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ سزا سنائی جانی چاہیے۔‘

واضح رہے کہ کمپوڈیا میں انیس سو ستر کی دہائی میں خمیر روج کے دورِ حکومت میں ایک خیالی کمیونسٹ معاشرہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی اور شہریوں کو ریاست کا دشمن قرار دے کر ان کا قتلِ عام کیا گیا تھا۔