کرس ہیون نے استعفیٰ دے دیا

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption انگلینڈ کی پولیس گزشتہ آٹھ ماہ سے اس مقدمے پر کام کر رہی تھی

برطانیہ میں توانائی کے وزیر کرِس ہیون نے انصاف کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنے کا الزام سامنے آنے پر اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔

کرس ہیون نے سیکرٹری توانائی کا عہدہ اس وقت چھوڑا جب انہیں علم ہوا کہ ان پر سنہ دو ہزار تین میں تیز رفتاری کے ساتھ گاڑی چلانے کے مقدے میں عدالت پر داغ لگانے کی کوشش کرنے کا الزام ہے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کی پولیس گزشتہ آٹھ ماہ سے اس مقدمے پر کام کر رہی تھی جس کی بنیاد سن دو ہزار تین کے ایک واقعے سے ہے۔

برطانوی وزیر کے خلاف دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے سن دو ہزار تین میں حد رفتار سے زیادہ تیزی سے گاڑی چلائی اور بعد میں کہا کہ اس وقت گاڑی کوئی اور چلا رہا تھا۔

کرس ہیون کی سابقہ بیوی وکی پرائس کو بھی ایسے ہی الزامات کا سامنا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے خاوند پر لگنے والے پوائنٹس کو تسلیم کیا تھا۔

ایسٹ لی سے تعلق رکھنے والے ایم پی کرس ہیون نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ بے قصور ہیں۔

برطانیہ کے بزنس وزیر ایڈ ڈیوی ان کی جگہ لیں گے تاہم برطانیہ کے نائب وزیر اعظم نک کلیگ کا کہنا ہے کہ کرس ہیون حکومت میں واپس آئیں گے۔

ڈائریکٹر پبلک پراسیکیوشن کیر سٹارمر کا کہنا ہے کہ سرکاری پراسیکیوشن سروس کے پاس اس بات کے کافی ثبوت ہیں کہ ہیون اور ان کی بیوی پرائس نے انصاف کے راستے میں حائل ہونے کی کوشش کی ہے۔

کیر سٹارمر کے مطابق کرس اور پرائس پر حد رفتاری سے زیادہ تیزی سےگاڑی چلانے کے الزامات سنہ دو ہزار میں مارچ اور مئی کے دوران سامنے آئے۔

پبلک پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ کرس نے مبینہ طور پر تفتیش کاروں سے جھوٹ بولا کہ گاڑی ان کی بیوی چلا رہی تھی اور ان کی بیوی کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ گاڑی خود چلا رہی تھیں۔

کرس ہیون اور وکی پرائس اب سولہ فروری کو عدالت میں پیش ہوں گی۔

کرس ہیون نے لندن میں اپنے فلیٹ سے باہر ایک مختصر بیان میں کہا کہ انہیں اس فیصلے پر مایوسی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’میں بے قصور ہوں اور میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ جیوری مجھ سے اتفاق کرے گی۔‘

دوسری جانب برطانیہ کے نائب وزیرِ اعظم نک کلیگ کا کہنا ہے کہ کرس ہیون میرے اچھے دوست ہیں اور انہوں نے توانائی کے وزیر کی حیثیت سے بہت اچھا کام کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں ہیون کے مستعفیٰ ہونے کے فیصلے کی قدر کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے اس الزام سے بری ہونے کے لیے ایسا کیا ہے۔

نک کلیگ کے مطابق اگر ہیون اس الزام سے بچ جاتے ہیں تو انہیں حکومت میں دوبارہ اہم عہدہ دیا جائے گا۔

کرس ہیون نے برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کو ایک خط کے ذریعے اپنا استعفیٰ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں موجودہ حکومت کے ساتھ کام کرنے پر فخر ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ انہیں ہیون کو ان حالات میں حکومت چھوڑ کر جانے پر دکھ ہے اور میں ان کے اچھے مستقبل کے لیے پر امید ہوں۔

بزنس سیکرٹری ونس کیبل نے کرس ہیون کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کرس ہیون پر فخر ہے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ مجھے ہیون کے جانے پر بہت دکھ ہے کیونکہ وہ بہت اچھے ساتھی اور محنتی ساتھی تھے۔

اسی بارے میں