مصر:این جی اووز کے غیر ملکی اہلکاروں پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصر میں کئی این جی اووز کے دفتر پر چھاپے مارے گئے۔

مصر کا کہنا ہے کہ غیر سرکاری تنظیموں کی مالی مدد کرنے کے الزام میں غیر ملکیوں سمیت تینتالیس افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

مصر میں حکمراں فوجی کونسل کا الزام ہے کہ غیر ملکی گروہ حکومت مخالف مظاہروں کے لیے مالی تعاون کر رہے ہیں۔

مصری حکام نے کئی غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر پر چھاپے مارے اور متعدد غیر ملکی اہلکاروں کے ملک چھوڑنے پر پابندی عائد کر دی۔

امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ مصر کی حکومت این جی اووز کے حقوق کا احترام نہیں کرے گی تو مصر کے لیے امریکی امداد پر نظرِ ثانی کی جاسکتی ہے۔

مصر کی حکومت کی جانب سے یہ اعلان اُن پرتشدد مظاہروں کے چوتھے دن سامنے آیا ہے جن میں ہنگامہ آرائی کے دوران چوہتر شائقین فٹ بال کی ہلاکت پر حکام کے خلاف غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سکیورٹی فورسز نے قاہرہ میں ملکی وزرات داخلہ کی جانب مارچ کرنے اور پتھراؤ کرنے والے ہزاروں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس فائر کی۔

جن افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا ان میں انیس امریکی باشندے ہیں۔

ان پر الزام ہے کہ ’انہوں نے مصر کی حکومت سے لائسینس لیے بغیر ایک بین القوامی تنظیم کی شاخیں مصر میں قائم کیں اور وہ غیر قانونی مالی مدد حاصل کر رہے تھے۔‘

بتایا جا رہا ہے کہ امریکہ میں ٹرانسپورٹ کے وزیر رے لاہُوڈ کا بیٹا میں ان افراد میں شامل ہے۔

سیم لا ہُوڈ مصر میں اپنی تنظیم انٹرنیشنل ریپبلیکن انسٹیٹیوٹ کے سربراہ ہیں اور انہیں بھی ایک ہفتے کے دوران بھی کئی دوسرے غیر ملکیوں کی طرح مصر سے باہر جانے سے روک دیا گیا ہے۔

مصر میں استغاثہ کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کے خلاف کارروائی اُن الزامات کے تحت کی جاری ہے جن کے مطابق بعض تنظیمیں مصر کے قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہیں جن میں بغیر اجازت کام کرنا بھی شامل ہے۔

تاہم مصری حکومت کا یہ اقدام آزادیء اظہار پر حملہ اور فوجی حکومت کی جانب سے اپنے ناقدین کو خاموش کرانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

سنیچر کے روز امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے اپنی حکومت کی اس تنبیہہ کو دہرایا تھا کہ امریکہ مصر کے لیے اپنی امداد پر نظر ثانی کر سکتا ہے جس میں ایک ارب تیس لاکھ ڈالر کی فوجی امداد بھی شامل ہے جو مصر کو ہر سال دی جاتی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق جن افراد پر مقدمہ چلایا جائے گا ان میں پانچ سرب، دو جرمن اور تین دیگر عرب باشندے شامل ہیں۔

اسی بارے میں