’ڈرون حملے، عام شہریوں کو دانستہ نشانہ بنایا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

لندن میں قائم انویسٹیگیٹو جرنلزم کے بیورو کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے امریکہ پاکستان کے قبائلی علاقے میں کیے جانے والے ڈرون حملوں میں دانستاً شہریوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ڈرون حملوں کے بعد لاشوں کو اٹھانے یا ان کی تدفین کے لیے جمع ہونے والے شہریوں اور طالبان کو بھی نشانہ بناتا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما نے پہلی مرتبہ چند دن قبل با ضابط طور پر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ ان حملوں میں شدت پسندوں کو نشانہ بنایا جاتاہے۔

یہ رپورٹ صدر اوباما کے اس بیان کے چند روز بعد ہے شائع کی گئی ہے جس میں صدر نے پہلی بار ان حملوں کا اعتراف کیا اور کہا کہ ان حملوں میں صرف دہشتگردوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

یہ رپورٹ ڈرون حملوں میں موجود عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں نہ صرف عام شہری مارے جاتے رہے ہیں بلکہ قبائلی کونسل کے اجلاسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ایسے ہی ایک اجلاس پر مارچ سنہ دو ہزار گیارہ میں حملہ ہوا جس میں کم از کم چالیس ہلاکتیں ہوئیں۔ یہ حملہ سی آئی اے کے کانٹریکٹر ریمنڈ ڈیوس کی ایک پاکستانی عدالت سے رہائی کے ایک روز بعد پیش آیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ حملہ سی آئی اے کے اس وقت کے چیف لیون پنیٹا کے احکامات پر کیا گیا تھا جو مبینہ طور پر ڈیوس کی گرفتاری پر شدید برہم تھے۔

پاکستان سے تمام عام شہریوں کی ہلاکتوں کی سختی سے مذمت کی ہے اور یہ رپورٹ پاکستان کے موقف کی تصدیق کرتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دو شدت پسندوں کی آخری رسومات کو نشانہ بنایا گیا جس سے پچاس کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ رپورٹ نے قانونی ماہرین کا حوالہ دیتے ہوئے ان حملوں کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے اور کچھ ماہرین نے تو انہیں قتل قرار دیا۔

اسی بارے میں