محمود عباس عبوری حکومت کے سربراہ ہونگے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فلسطینی صدر محمود عباس نے حماس کے رہنما خالد مشعل کے ساتھ دوسری ملاقات کے بعد کہا ہے کہ فلسطین میں قومی یکجہتی کی حکومت کی سربراہی وہ خود کریں گے۔

عبوری حکومت غزہ اور ویسٹ بینک میں انتخابات کی تیاری کرے گی۔

اپریل 2011 میں ہونے والے مصالحتی معاہدے کے تحت ہی محمود عباس اور خالد مشعل کے درمیان قطر میں ملاقات ہوئی اور اس میں یہ طے کیا گیا کہ حکومت کی سربراہی کون کرے گا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اپریل کے معاہدے کے نفاذ میں یہ مسئلہ سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔

رملہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس ملاقات میں حماس اور فتح کو مل کر حکومت کی قیادت کے لیے ایک آزاد شخصیت کو پیش کرنا تھا لیکن کسی شخصیت پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ محمود عباس ہی صدر کے ساتھ ساتھ وزیرِاعظم کے فرائض بھی انجام دیں گے۔

محمود عباس فلسطینی قومی تحریک ’فتح‘ کی قیادت کرتے ہیں اور حماس نے جو کہ سخت نظریات کی حامی ہے اس خیال کو مسترد کر دیا تھا۔

فتح کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ نئی حکومت کی شکل کیا ہوگی اس کی تفصیل 18 فروری کو قاہرہ میں بتائی جائے گی۔

اطلاعات کے مطابق اس حکومت میں ٹیکنو کریٹس اور آزاد شخصیات شامل ہونگی۔

مسٹر عباس کا کہنا ہے کہ دونوں فریق سیاسی اتحاد کے لیے سنجیدہ ہیں دوسری جانب اسرائیل جو حماس کو ایک شدت پسند تنظیم تصور کرتا ہے وہ اس اتحاد کے خلاف ہے۔

اسی بارے میں