’شہریت دینے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption عموماً انفرادی طور پر پیش کی جانے والی قراردادیں قانون نہیں بنتیں:وکٹوریہ نولینڈ

امریکہ کے محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن کی نشاندہی میں مدد دینے والے پاکستانی ڈاکٹر کو امریکی شہریت دینے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

امریکی کانگریس کے ایک رکن نے اتوار کو ایوان میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو شہریت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے پیر کو پریس بریفنگ میں بتایا کہ ’یہ قرارداد کانگریس میں موجود ہے اور ابھی اس پر فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ عموماً انفرادی طور پر پیش کی جانے والی قراردادیں قانون نہیں بنتیں۔ یہ ایک تجویز ہے‘۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی اس وقت پاکستان میں زیرِ حراست ہیں۔ پاکستان میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس کمیشن نے ڈاکٹر شکیل کا بیان بھی قلمبند کیا تھا۔

حال ہی میں امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ساتھ دورانِ حراست روا رکھے جانے والے سلوک پر تشویش ظاہر کی تھیے۔

لیون پنیٹا نے کہا تھا ’وہ ایک انفرادی شخص تھا جس نے یقیناً خفیہ معلومات فراہم کرنے میں مدد کی جو آپریشن کے لیے بہت مددگار تھی اور اس شخص کا یہ عمل کسی طور بھی پاکستان کے خلاف بغاوت نہیں۔ وہ کوئی ایسا کام نہیں کررہا تھا جو پاکستان کو نقصان پہنچائے۔‘

ان کے بقول ’پاکستان اور امریکہ کا دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مقصد ہے اور ان (پاکستان) کی جانب سے کسی کے خلاف اس قسم کی کارروائی ہو جو دہشت گردی کے خلاف مدد کررہا ہو، میں سمجھتا ہوں ایسا کرنے سے وہ غلطی پر ہیں‘۔

لیون پنیٹا نے تسلیم کیا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی جو ڈی این اے جمع کرنے اور اسامہ بن لادن کی موجودگی کی تصدیق کی کوشش میں گاؤں میں طبی ٹیسٹ کررہے تھے وہ دراصل امریکہ کے لیے کام کر رہے تھے۔

اسی بارے میں