حمص پر پانچویں روز بھی شدید بمباری

حمص شہر تصویر کے کاپی رائٹ x
Image caption حمص شہر میں درجنوں ہلاکتوں کی اطلاع ہے اور کئی جگہ پر لوگوں کو رات کے اندھیرے میں دفنایا جاتا ہے

شام کے شہر حمص کے رہائشیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر لگاتار پانچویں روز بھی شدید ترین بمباری کی زد میں رہا ہے۔

انسانی حقوں کے کارکنوں کے مطابق نئی شیلنگ سے چالیس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یہ حملہ روسی وزیرِ خارجہ کے دمشق کے دورے کے ایک دن بعد ہوا ہے جس میں شام کے صدر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ تشدد ختم کر کے مذاکرات شروع کریں گے۔

گزشتہ ہفتے روس اور چین نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام سے متعلق قرار داد کو ویٹو کر دیا تھا۔

بی بی سی کے پال وڈ جو حمص شہر کے نواح میں باغیوں کے ساتھ ہیں کہتے ہیں کہ شہر کے اندر موجود ان کے ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ ان کے لیے یہ معلوم کرنا بہت مشکل ہے کہ کتنے لوگ ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

نامہ نگار کہتے ہیں کہ لوگ حمص شہر میں زمینی حملے کا خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔

حمص کے بابا عمرو علاقے کے رہائشی عمر نے بی بی سی کو بتایا کہ راکٹ اور مارٹر حملے اندھا دھند ہو رہے ہیں۔

’بابا عمرو کا ہر گھر نشانے پر ہے۔ اگر آپ بچ گئے تو آپ بہت خوش قسمت ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں پانچ یا دس منٹ پہلے میرے ساتھ والے گھر کے اندر راکٹ گرے۔ راکٹوں کے زوردار دھماکے سے ایک چھوٹی بچی کا سر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔‘

دریں اثناء شام میں حکومت کے مخالف گروہوں نے صدر بشار الاسد کی جانب سے ملک بھر سے تشدد کے خاتمے کی یقین دہانیوں کو مسترد کر دیا ہے۔

حزبِ مخالف کے گروہوں کا کہنا ہے کہ صدر الاسد کھوکھلے وعدے کر رہے ہیں جبکہ امریکہ نے بھی اس اعلان کو مشکوک قرار دیا ہے۔

شام کے صدر بشارالاسد نے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاورو سے ملاقات میں کہا تھا کہ وہ ملک میں جاری تشدد کو ختم کر کے حزبِ مخالف سے بات چیت کریں گے اور سیاسی اصلاحات لائیں گے۔

تاہم اس یقین دہانی کے باوجود شامی حکومت کی افواج نے حمص اور دیگر ایسے شہروں میں کارروائی جاری رکھی ہے جو اپوزیشن کا گڑھ ہیں۔

اسی بارے میں