کرنل قذافی کا سرت، مستقبل کیا؟

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اب مسئلہ یہ ہے کہ سرت کی کسی کو پروہ نہیں ہے۔ نہ کوئی یہاں آتا ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی بات کرتا ہے: مقامی عبدل سلیم

گزشتہ اکتوبر لیبیا کے سابق رہنماء کرنل معمر قذافی کے آبائی شہر سرت میں ہونے والی جنگ میں قتل و غارت کا بازار بھی گرم کیا گیا اور کوئی عمارت ایسی نہ بچی جو گولیوں سے چھلنی نہ کی گئی ہو۔

اگرچہ جنگ کے بعد سرت کی بیشتر عمارتیں کھنڈرات بن کر رہ گئیں لیکن اب بھی اس کے پارکوں، شاہراہوں، عالیشان مکانوں اور کانفرنس ہالوں کو ایک نظر دیکھنے سے انسان یہ ضرور سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ لیبیا کے سابق رہنماء نے اس معمولی سے گاؤں کو کس طرح ایک شاندار شہر میں تبدیل کیا۔

تاہم قابلِ غور سوال یہ ہے کہ نئے لیبیا یعنی کرنل قذافی کے بعد کے لیبیا میں اس شہر کا مستقبل کیا ہے؟

لیبیا کی موجودہ عبوری حکومت نے سرت کو دوبارہ تعمیر کرنے کا عوام سے وعدہ تو کیا ہے لیکن اس بات کو تسلیم کرنا انتہائی مشکل ہے کہ یہ تعمیراتی کام کرنل قذافی کی جانب سے کیے جانے والے عظیم الشان پیمانے پر ہو گا۔

نئی انتظامیہ کے مقامی سربراہ محمد کابلان کہتے ہیں کہ ’تمام ٹاؤن کونسل اس بات پر متفق ہے کہ تعمیراتی کام سب سے پہلے سرت ہی میں شروع کیا جانا چاہیے۔ ہر کسی کو اس شہر سے ہمدردی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ سرت کے تقریباً ساٹھ فیصد رہائشی لوٹ آئے ہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ گھروں، سکولوں اور دیگر ضروریات کی مرمت اور بحالی کا کام جلد از جلد شروع کیا جائے۔

شہر کے ضلع دوم میں واقع طالع النصیر نامی سکول شہر کے ان سکولوں میں سے ایک ہے جسے جنگ کے دوران شدید نقصان پہنچا۔ اس کی دیواروں پر راکٹ داغے گئے اور اس کے کلاس رومز میں گولیوں کے سوراخ اب بھی واضح ہیں۔

لیبیا کے باقی سکولوں کی طرح یہاں پڑھنے والے طلباء کے دن کا آغاز ورزش سے ہوتا ہے۔ جب قومی ترانے کی باری آتی ہے تو گنے چنے طلباء ہی نئے ترانے کو گا پاتے ہیں۔

اگرچہ یہ ایک پرانا ترانہ ہے جسے قذافی کے خلاف فیصلہ کن بغاوت کی یاد میں دوبارہ گایا جانے لگا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسے گانے والے طلباء وہ ہیں جن کے خاندان ابھی بھی لیبیا کے سابق رہنماء کے خیرخواہ ہیں۔

اس سکول کے ایک استاد کے بقول ’وہ (قذافی) ابھی بھی ہمارے دلوں میں ہے۔‘

لیکن سرت میں لوگوں کی یہ رائے عام ہے۔ جیسا کہ ایک مقامی لڑکی کا کہنا تھا ’جو کچھ بھی ہمارے شہر میں ہوا وہ سراسر تباہی تھی۔ باغیوں نے ہمارے گھروں میں داخل ہو کر ہم پر حملے کیے اور لوٹ مار کی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ بغاوت سے ’کوئی تبدیلی نہیں آئی سوائے اس کے کہ اب ہمارے سکولوں کی کتابوں پر ایک نیا جھنڈا بنا ہوا ہے۔‘

اسی لڑکی کی استانی شفاء حسن نے بتایا ’لوگوں کی ذہنی حالت اچھی نہیں ہے۔ سب بہت دکھی، ناراض اور جارحانہ ہو گئے ہیں۔‘

سکول کی ایک اور استانی تو چیخ چیخ کر جنگ کے دوران اپنے خاندان کے چھ افراد کی ہلاکت کا دکھڑا رونے لگیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سارا قصور نیٹو افواج کا ہے۔

تقریباً تمام طلباء کا یہی شکوہ تھا کہ نئی حکومت کو ان کا کوئی خیال نہیں ہے۔ شہر کے ضلع دوم میں پانی تک نہیں ہے اور زیادہ تر گھر رہنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔

لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ کیا یہ نئی حکومت سرت کا تعمیراتی کام اس طریقے سے سرانجام دے پائے گی جس سے یہ لگے کہ یہ وہی سرت ہے جسے کرنل قذافی نے بنایا تھا؟

لیبیا کے بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ سرت کو نقشے سے مٹا دینا چاہیے خاص طور پر مسراٹا کے رہائشیوں کا، جنہوں نے جنگ کے دوران وہاں ہونے والی تباہی کو دیکھا ہے۔

لیبیا کے نائب وزیرِاعظم مصطفیٰ ابوشاغر سمجھتے ہیں کہ سرت کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جائے گی۔

’یہ ہمارا بنیادی فرض ہے کہ وہاں سہولیات فراہم کی جائیں۔ ہم ایک ملک اور ایک عوام ہیں اور ہمیں یکجہت ہو کر رہنا سیکھنا ہوگا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے سرت میں سکولوں کی تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے۔

لیبیا کی عبوری حکومت کو سکولوں کے علاوہ بھی بہت سی چیزوں کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ جیسے قذافی کے دورِ حکومت میں تعمیر کیے گئے ضرورت سے زیادہ بڑے سرکاری دفاتر اور قذافی کے محل سمیت سابق رہنماء کے سرت میں شروع کیے گئے دیگر منصوبے۔

سرت کے ایک مقامی عبدل سلیم، جو قذافی کے حامیوں میں سے نہیں ہیں، ان کا بھی یہ کہنا تھا کہ نئی حکومت کوئی کام سرانجام نہیں دے رہی۔

انہوں نے بتایا ’اب مسئلہ یہ ہے کہ سرت کی کسی کو پرواہ نہیں ہے۔ نہ کوئی یہاں آتا ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی بات کرتا ہے۔‘

عبدل سلیم کا مزید کہنا تھا ’عبوری کونسل کے سربراہ عبدل جلیل کو قذافی کے جانے کے بعد سرت سے ہی قوم سے خطاب کرنا چاہیے تھا تاکہ عوام پر یہ ظاہر کیا جا سکتا کہ سرت اور لیبیا کے کسی اور شہر میں کسی قسم کا فرق نہیں ہے۔‘

لیکن سچ تو یہ ہے کہ زیادہ تر لیبیا کے شہریوں کی نظر میں سرت اپنی تاریخ کی وجہ سے ملک کے باقی شہروں سے مختلف ہے اور اس بات کو لوگ عنقریب نظر انداز نہیں کر سکتے کہ کرنل قذافی برسوں اس شہر پر مہربان رہے۔

اسی بارے میں