’خواتین کے لیے جنگ میں شرکت کے مواقع‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

امریکی فوج نے میدانِ جنگ میں خواتین کی تعیناتی سے متعلق قوانین میں نرمی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اگرچہ امریکی خواتین اب بھی توپخانے، بکتربند یا خصوصی دستوں میں تعینات نہیں ہو سکیں گی لیکن خیال ہے کہ قوانین میں نرمی کے سبب وہ میدانِ جنگ میں لڑائی کے بہت قریب ہو جائیں گی۔

واضح رہے کہ امریکہ کی چودہ فیصد فوج خواتین پر مشتمل ہے لیکن ان کی تعیناتیاں اعلیٰ سطح کمانڈ کے قریب، بریگیڈ تک محدود رہتی ہیں۔

امریکی فوج نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے خواتین کے لیے چودہ ہزار نئی اسامیوں کا فیصلہ کیا ہے جن کے ذریعے ان کی تعیناتی جنگی بٹالینز میں ہو سکے گی۔

خواتین کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ قوانین میں نرمی امتیازی رویے کا مکمل خاتمہ نہیں کیونکہ خواتین مردوں کے شانہ بشانہ، ہراول دستوں میں لڑنے کی حقدار ہیں۔

پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جارج لٹل نے جمعرات کو کہا ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ فوج میں تعینات خواتین کو نئے مواقع فراہم کرنے کے لیے سوچ بچار کی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ امریکی فوج آنے والے وقت میں بھی خواتین کے لیے فوج میں دیگر نئے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کرتی رہے گی۔

واضح رہے کہ فی الوقت امریکی فوج میں دو لاکھ کے قریب خواتین تعینات ہیں۔ افغانستان اور عراق میں چھ ہزار تین سو فوجیوں کی ہلاکتوں میں سے ایک سو چوالیس خواتین تھیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ یہ نئی پالیسی تیس دن بعد لاگو ہو جائے گی۔

بی بی سی سے