یونان میں بچت کا بل منظور، عوام کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم دس افراد زخمی ہوگئے

یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں پارلیمان نے شدید ہنگاموں اور عوامی احتجاج کے دوران بچت کے بل کی منظوری دے دی۔

بل کے حق میں ایک سو ننانوے ووٹ پڑے جبکہ بل کی مخالفت میں چوہتر ووٹ ڈالے گۓ۔

اتحادی جماعتوں نے بل کی حمایت نہ کرنے کے لیے چالیس سے زیادہ نمائندوں کو برخاست کر دیا ہے۔

بل کی منظوری کے بعد اب یونان کو ایک سو تیس ارب یورو کا بیل آؤٹ پیکج مل سکے گا۔ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور یوروزون اتحاد نے رقم کی ادائیگی بچت کے اقدامات سے مشروط کی تھی۔

ادھر اتھنس میں لوگ ہزاروں کی تعداد میں بل کی مخالفت میں سڑکوں پر اتر آۓ، تصادم ہو‎‎ۓ اور عمارتوں کو نذر آتش کیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک کے دوسرے شہروں سے بھی مزاحمت کی خبریں آ رہی ہیں۔

یونان کے وزیر ا‏عظم لوکس پاپوڈیموس نے لوگوں سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ "یہ بچت بل معیشت کی بحالی اور اصلاحات کے لیے بنیاد فراہم کریگی"۔

انھوں نے کہا: ایک جمہوری ملک میں توڑپھوڑ اور ماردھاڑ کو قطعی برداشت نہیں کیا جاۓ گا۔

پارلیمان سے باہر بچت کے بل کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ احتجاجی مظاہرین نے پٹرول بموں کا استعمال اور پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے انہیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔

احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں کم سے کم دس افراد زخمی ہوگئے جبکہ دس عمارتوں کو نذرِ آتش کردیا گیا۔

اس سے قبل پارلیمنٹ کے اراکین بچت کے اقدامات نافذ کرنے کے لیے ایک ایسے بل پر بحث کررہے ہیں جسے نافذ کرنے کے بعد یونانی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک سو تیس ارب یورو کا قرضہ مل سکے۔

یونان کے وزیراعظم لُوکس پاپوڈیموس نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس بل کو منظور نہ کیا گیا تو یہ ’تباہ کن‘ ہوگا۔

ایتھنز میں بی بی سی نامہ نگار مارک لوون کا کہنا ہے کہ پرتشدد مظاہرے حالیہ مہینوں میں عام سی بات تھی لیکن اس مرتبہ یہ کافی بڑے ہیں۔

کئی تاریخی عمارتیں جن میں کیفے اور سینماء بھی شامل ہیں آگ میں جھونک دیے گئے ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایتھنز کے قلب میں واقع سِنٹگما سکوائر آنسو گیس کے دھویں سے چھپ گیا تھا۔

دارالحکومت میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔

ان جھڑپوں سے پہلے ہزاروں افراد نے پارلیمان کی عمارت کے سامنے مجوزہ بل کے خلاف اپنی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ اتنی تعداد میں پارلیمان کے سامنے لوگوں کے احتجاج کا اتوار کو دوسرا دن تھا۔

چند اطلاعات ہیں کہ کم سے کم اسّی ہزار افراد نے ایتھنز کے مظاہرے میں حصہ لیا جبکہ بیس ہزار افراد نے تھیسالونِکی میں مظاہرہ کیا۔

قانون ساز نجی بینکوں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کی بھی توثیق کرنے جارہے ہیں جس کے تحت ایک سو ارب یورو تک یونان کا قرضہ معاف ہوسکے گا۔

اگر اِن اقدامات کی منظوری نہیں ہوتی تو عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور دیگر یورو زون کے ممالک کا کہنا تھا کہ یونان کو کہیں سے کوئی رقم نہیں ملتی اور یہ مارچ تک دیوالیہ ہوجاتا۔

یونان کو قرضوں کی مد میں بیس مارچ تک ساڑھے چودہ ارب یورو کی رقم ادا کرنی ہے۔

یونان کی کابینہ نے بچت کے اقدامات کی منظوری پہلے ہی دے دی تھی تاہم اس معاملے پر کابینہ کے پانچ وزراء نے استعفٰی دے دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اگر اس بل کو منظور نہ کیا تو یہ ’تباہ کن‘ ہوگا: وزیراعظم پاپوڈیموس

وزیراعظم پاپوڈیموس نے ٹی وی پر قوم سے خطاب کے دوران کہا تھا ’اگر ہم ان اقدامات کی منظوری نہ دیں تو اس پروگرام کے نتیجے میں معاشی اور سماجی قیمت ادا کرنے سے ہمیں کہیں زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔‘

ان کے بقول ’بچت ختم ہوجائے گی اور حکومت تنخواہیں دینے کے قابل نہیں رہے گی، نہ ہی ایندھن درآمد کر سکے گی، نہ ہی دوائیں نہ مشینری، ان سب کاموں میں خلل پیدا ہوجائے گا۔‘

یوروزون اتحاد کا کہنا ہے کہ یونان کو رواں برس بتیس کروڑ پچاس لاکھ یورو کی مزید بچت کرنا ہوگی۔ اس کا اصرار ہے کہ یونانی رہنماء اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ بچت کا پیکج نافذ کیا جائے گا۔

یونان اپنے قرضوں کی ادائیگی کرنے کے قابل نہیں رہا ہے اور خدشہ ہے کہ یونان کے دیوالیہ ہونے سے یورپ کا اقتصادی استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے جس سے یوروزون اتحاد کے ٹوٹنے کا بھی ڈر ہے۔

تاہم نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یونان میں کئی افراد سمجھتے ہیں کہ اقتصادی طور پر ملک میں پہلے ہی بچت کے اقدامات آخری حد تک کیے جاچکے ہیں لہذٰا مزید ایسے اقدامات نہیں کیے جانے چاہیے۔

چند افراد کا یہاں تک بھی کہنا ہے کہ یونان کو چاہیے کہ وہ یوروزون کے اتحاد کو خیرباد کہہ دے تاکہ وہ اپنی سابقہ کرنسی کی قدر کو کم کرنے میں آزاد ہو اور قرضوں کے پھندے کو بھی نرم کر سکے۔

اسی بارے میں