بحرین: شورش کی سالگرہ اور احتجاج

بحرین میں سیاسی احتجاج کے خلاف پولیس کارروائی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بحرینی دارالحکومت منامہ میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی بہت بڑی تعداد لوگوں کو جہوری تحریک کی پہلی سالگرہ میں شرکت سے روک رہی ہے۔

حزب اختلاف نے اپنے کارکنوں اور مظاہرین سے اس پرل سکوائر کی جانب مارچ کی اپیل کی تھی جو گزشتہ برس جمہوری آزادیوں کے حق میں ہونے والے احتجاج اور شورش کا مرکز تھا اور اب جس کو مسمار کیا جا چکا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پرل سکوائر کے آس پاس تو اس وقت خاموشی ہے لیکن دوردراز کے علاقوں سے پرتشدد احتجاج کی اطلاعات ہیں اور خبروں کے مطابق پولیس پتھراؤ کرنے والے نوجوانوں پر آنسو گیس پھینک رہی تھی اور ربڑ کی گولیاں چلا رہی تھی۔

زیادہ تر مظاہرین کاتعلق خلیج فارس کی اس بادشاہت کی شیعہ اکثریتی آبادی سے بتایا جاتا ہے۔

شیعہ آبادی جمہوری اصلاحات کا مطالبہ کرتی رہی ہے اور اس کو طویل عرصے سے یہ شکایت رہی ہے کہ سنی اقلیت سے تعلق رکھنے والا حکمران الخلیفہ خاندان شیعہ آبادی سے امتیازی برتاؤ کرتا آیا ہے۔

احتجاج کے لیے مظاہرین سے پرل اسکوائر پر جمع ہونے کی اپیل کی گئی تھی جس کے بعد دارالحکومت کے باہر کی شیعہ آبادیوں کو آنے جانے والے تمام راستوں کو سیکیورٹی دستوں نے بند کردیا تھا اور کئی مقامات پر احتجاج روکنے کے لیے طاقت بھی استعمال کی گئی۔

حزب اختلاف کے بڑے شیعہ گروپ الوفاق کے مطابق ایک درجن سے زیادہ مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ حکومت نے منگل کے روز جاری کیے بیان میں حکومتی اجازت سے ہونے والے احتجاج میں تشدد کے لیے الوفاق کوالزام دیا گیا ہے۔

گزشتہ برس بحرین میں جمہوریت اور شہری آزادیوں کے حق میں ہونے والے احتجاج کے دوران دو ماہ کی مدت میں پانچ سکیورٹی اہلکاروں سمیت پینتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ تین ہزار لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق گزشتہ مارچ سے اب تک مجموعی طور پر بیس مزید لوگ مارے جاچکے ہیں۔

اسی بارے میں