چین کے نائب صدر امریکہ کے دورے پر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 15 فروری 2012 ,‭ 09:05 GMT 14:05 PST

زی جنپنگ چین کے اگلے متوقع صدر ہیں۔

امریکہ کے دورے پر گئے چین کے نائب صدر شی جنپنگ نے اپنے ملک میں انسانی حقوق کے ریکارڈ کا دفاع کیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک پروگرام میں انہوں نے تسلیم کیا کہ چین میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کی گنجائش موجود ہے۔

حکام کے مطابق صدر اوباما اور شی جنپنگ نے تجارت، کرنسی اور شام کے معاملے پر چین کے رویے کے بارے میں بات چیت کی۔ صدر اوباما نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات ہونا بہت اہم ہے۔

ادھر چین کے نائب صدر نے امید ظاہر کی کہ ان کی دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور گہری ہو ۔

اٹھاون سالہ شی جنپنگ چین کے اگلے متوقع صدر ہوں گے۔ موجودہ صدر ہو جنتاؤ اس سال کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کے عہدے سے ہٹ جائیں گے اور اگلے سال وہ صدر کا عہدہ بھی چھوڑ دیں گے۔

امریکہ اور چین کے درمیان تجارت، کرنسی اور انسانی حقوق کے مسئلے پر اختلافات رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ چین نے اقوام متحدہ میں شام کے حوالےسے ایک تجویز کو ویٹو کر دیا تھا جس سے امریکہ خوش نہیں تھا۔

شی جنپنگ نے کہا کہ انہوں نے انسانی حقوق کے مسئلے پر امریکی نائب صدر جو بائڈن اور وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کے ساتھ کھل کا اظہارِ خیال کیا ہے۔

انہوں نے کہا ’میں نے زور دیا کہ تیس برس پہلے بہتر پروگرام شروع ہونے کے بعد سے انسانی حقوق کے معاملے میں بہت بہتری آئی ہے۔ بہتری کے لیے ہمیشہ گنجائش رہتی ہے۔‘

"میں چین کی پرامن ترقی کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ہم چین کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ تمام دنیا معیشت کی بہتری کے لئے ایک جیسے قوانین کو عمل میں لائیں۔اس میں صرف چین اور امریکہ کے درمیان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں کاروباری توازن برقرار رکھنا شامل ہے۔"

براک اوباما

تقریباً ایسا ہی بیان ایک سال پہلے امریکہ کے دورے پر آئے ہوئے چین کے صدر ہو جنتاؤ نے بھی دیا تھا۔ لیکن موجودہ دورہ ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب تبت میں چینی مظالم کی خبریں آ رہی ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے باہر انسانی حقوق کے کارکنوں نے شی جنپنگ کے دورے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

کچھ مظاہرین نے پرچم اٹھا رکھے تھے، جن پر لکھا تھا ’شی جنپنگ! تبت آزاد ہو گا۔‘

امریکہ نے چین پر تجارت کے بارے میں اور خاص طور پر چین کرنسی کی قیمت پر بھی دباؤ ڈالا۔

براک اوباما نے کہاکہ ’میں چین کی پرامن ترقی کا خیر مقدم کرتا ہے۔ ہم چین کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ تمام دنیا معیشت کی بہتری کے لئے ایک جیسے قوانین کو عمل میں لائیں۔اس میں صرف چین اور امریکہ کے درمیان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں کاروباری توازن برقرار رکھنا شامل ہے۔‘

امریکی حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ اوباما نےشی جنپنگ سے ملاقات میں شام کے مسئلے پر چین کے ویٹو پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔