ہونڈوراس:آتشزدگی سے 350 ہلاک، تحقیقات شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آگ کیسے لگی

لاطینی امریکہ کے ملک ہونڈوراس کی ایک جیل میں آتشزدگی سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ساڑھے تین سو تک پہنچ گئی ہے اور چوبیس گھنٹے بعد بھی متاثرہ عمارت سے زخمیوں اور لاشوں کو باہر نکالنے کا کام جاری ہے۔

ہونڈوراس کے صدر پروفیرو لوبو نے جیل کے محکمے کے اہلکاروں کو معطل کرتے ہوئے اس ’ناقابلِ قبول‘ واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

وسطی ہونڈوراس کے علاقے کومےگوا میں واقع جیل میں زیادہ تر ہلاکتیں کوٹھڑیوں میں قیدیوں کا دم گھٹنے اور جلنے سے ہوئیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ ہونڈوراس کی جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی رکھے جانے کا نتیجہ ہے۔

تنظیم نے وہاں جیلوں کی حالتِ زار کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔

براعظم امریکہ کے لیے تنظیم کے ڈائریکٹر ہوزے میگوئل ویوانکو کا کہنا ہے کہ ’ اس امر کی وجہ سے کہ ہونڈوراس میں قتل کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، حکام جیلوں کی حالت سے قطع نظر ان میں مجرموں اور ملزموں کو بھرے جا رہے ہیں‘۔

سینکڑوں لواحقین اب بھی اپنے رشتہ داروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے جیل کے باہر جمع ہیں۔ یہ گزشتہ سو سال میں دنیا میں اس نوعیت کا ہونے والا سب سے بڑا حادثہ ہے اور بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جیل کے باہر موجود افراد بےچین اور مضطرب ہیں۔

آتشزدگی کے چوبیس گھنٹے بعد بھی جیل سے زخمیوں اور لاشوں کو باہر لانے کا کام جاری ہے جبکہ فارینزک حکام آگ لگنے کی وجہ تلاش کر رہے ہیں۔

ہونڈوراس کی حکومت کے ایک وزیر نے اخباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ آگ یقیناً جان بوجھ کر لگائی گئی تھی جبکہ ایک اور وزیر نے بجلی کے نظام میں خرابی کو اس کی وجہ قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درجنوں قیدی اپنی کوٹھڑیوں میں پائے گئے اور ان لاشیں ناقابلِ شناخت ہو چکی تھیں

صدر لوبو کا کہنا ہے کہ وہ اس تباہی کے ذمہ داران کو تلاش کر کے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ غیرجانبدارانہ تحقیقات عالمی مبصرین کی زیرِ نگرانی کروائی جائیں گی‘۔

دارالحکومت ٹیگوسیگالپا کے شمال میں سو کلومیٹر کے فاصلے پر کومےگوا میں واقع جیل میں یہ آگ منگل کو رات گئے لگی تھی اور اس پر ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد قابو پایا گیا۔

جب آگ لگی تو اس وقت جیل میں ساڑھے آٹھ سو سے زائد قیدی موجود تھے۔ ہلاک ہونے والے درجنوں قیدی اپنی کوٹھڑیوں میں پائے گئے اور ان لاشیں ناقابلِ شناخت ہو چکی تھیں۔

کومےگوا کے آگ بجھانے کے عملے کے ترجمان ہوزے گارسیا کا کہنا ہے کہ جیل میں ’جہنم‘ کا سا منظر تھا اور مضطرب قیدیوں نے شعلوں سے بچنے کے لیے ہنگامہ بھی کیا۔

ان کے مطابق ’ ہمارے پاس چابیاں نہیں تھیں اس لیے ہم انہیں باہر نہیں نکال سکے اور نہ ہی ان محافظین کو تلاش کر سکے جن کے پاس وہ چابیاں تھیں‘۔

آگ سے بچ نکلنے والے ایک قیدی کا کہنا تھا کہ اس نے آگ لگنے پر قیدیوں کی چیخیں سنیں اور وہاں ہر کسی کو اپنی پڑی تھی۔

ان کے مطابق ’ہم صرف یہ کر سکے کہ ہم نے چھت توڑنی شروع کی تاکہ ہم باہر نکل سکیں‘۔

دیگر قیدیوں نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ ایک قیدی نے اپنے گدّے کو آگ لگائی اور پھر چلاّنے لگا ’ہم سب یہیں مریں گے‘۔

جیل خانہ جات کے محکمے کے سربراہ ڈینیئل اوریلانا نے تصدیق کی ہے حکام دو امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے دو اندازے لگائے ہیں۔ ایک یہ کہ کسی قیدی نے اپنے گدے کو آگ لگائی اور دوسرا یہ کہ آگ شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں لگی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بڑی تعداد میں قیدیوں کے اہلِخانہ جائے حادثہ پر جمع ہیں

ہنڈوراس کے ذرائع ابلاغ کے مطابق جیل میں آگ لگنے سے پہلے ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی۔

کومےگوا کے فارینزک شعبے کی سربراہ لوسی مارڈار کا کہنا ہے کہ بدھ تک جیل میں قید تین سو چھپن افراد کا پتہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مر چکے ہیں لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ افراد زخمی ہوئے ہوں اور بھاگ نکلنے میں کامیاب رہے ہوں۔

آتشزدگی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد بڑی تعداد میں قیدیوں کے اہلِخانہ جائے حادثہ پر جمع ہوگئے تھے جہاں پولیس سے ان کا تصادم بھی ہوا اور پولیس نے انہیں جیل میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

ہونڈوراس جہاں قتل کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جیلوں میں اکثر گنجائش سے زیادہ افراد رکھے جاتے ہیں جن میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کے ارکان بھی شامل ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں