ایران:جوہری شعبے میں کامیابیوں کا اعلان

ایرانی صدر احمدی ن|ژاد تصویر کے کاپی رائٹ Presidencia irani
Image caption ایرانی صدر نے جوہری ایندھن لوڈ کیے جانے کی تقریب میں شرکت کی

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ جوہری ری ایکٹر میں مقامی سطح پر تیار کردہ ایندھن استعمال کیا ہے اور اس کے پاس یورینیم کی افزودگی کے لیے زیادہ فعال سینٹری فیوج ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر صدر محمود احمدی نژاد کو ان جوہری ایندھن کے راڈز یا سلاخوں کا معائنہ کرتے دکھایا گیا ہے۔

اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر ایرانی صدر نے کہا تھا کہ وہ جوہری حوالے سے بڑی کامیابیوں کا اعلان کرنے والے ہیں۔

ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے لیکن مغرب یہ بات ماننے کے لیے تیار نہیں۔

دو سال قبل جوہری ری ایکٹر کے لیے بیرونِ ملک سے ایندھن منگوانے کا معاہدہ ختم ہونے کے بعد ایران نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا ایندھن خود ہی تیار کرے گا۔

ایرانی حکومت نے یورینیم کی افزودگی میں استعمال ہونے والے نئے اور زیادہ فعال سنٹری فیوجز کی نقاب کشائی نتانز جوہری مرکز میں کی۔

ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ فریدون عباسی دوانی کا کہنا ہے کہ یہ نئے سنٹری فیوجز موجودہ سنٹری فیوجز سے تین گنا زیادہ فعال ہیں۔

جنوری میں اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے نے کہا تھا کہ ایران نے قم میں واقع جوہری مرکز میں بیس فیصد افزودہ یورینیم کی پیداوار شروع کر دی ہے۔

گزشتہ ماہ ایران نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنے متنازع جوہری پروگرام پر چھ طاقتور ممالک سے بات کرنے کے لیے تیار ہے۔ متنازع جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات ایک سال سے تعطل کا شکار ہیں اور ان مذاکرات کا آخری دور ترکی کے شہر استنبول میں ایک سال قبل ہوا تھا۔

مذاکرات کے آخری دور کے بعد ایران پر امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے مزید پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کے مطابق ایران کے ان حالیہ اقدامات سے ایک بات صاف ظاہر ہے کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتا ہے کہ وہ اپنے بل بوتے پر جوہری ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کر سکتا ہے اور اسے عالمی پابندیوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اسی بارے میں