جرمنی: صدر کا مستعفی ہونے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption صدر کرسٹیان ولف نے سنہ دو ہزار آٹھ میں ایک امیر صنعت کار کی بیوی سے کم شرح سود پر پانچ لاکھ یورو کا قرضہ لیا تھا۔

جرمنی کے صدر کرسٹیان ولف نے پروسیکیوٹرز کی جانب سے اُن کا استثنیٰ واپس لینے کے مطالبے کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے جمعرات کو جرمنی کے صوبے لوئر سیکسونی کے دارلحکومت ہینوور میں پروسیکیوٹرز نے کہا تھا کہ بہت سی علامات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کے صدر نے دورانِ حکومت غلط طرزِ عمل اپنایا ہے جس کے نتیجے میں انہیں دیا گیا استثنیٰ واپس لیا جانا چاہیے۔ استغاثہ کے وکیلوں نے یہ مطالبہ ملک کے ایوان زیریں سے کیا ہے۔

صدر کرسٹیان ولف کے استثنیٰ کو ختم کرنے کا مطالبہ اِس لیے کیا جا رہا ہے تا کہ اُن پر اختیارات کے غلط استعمال کا مقدمہ چلایا جا سکے۔

کرسٹن ولف جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل کے حامیوں میں سے ہیں اور اُن پر ایک ایسے سکینڈل میں ملوث ہونے کا الزام ہے جس میں انہوں نے جرمنی کے صوبے لوئر سیکسونی کے وزیرِاعلیٰ ہونے کے دوران ایک مکان کے لیے قرضہ لیا تھا۔

گزشتہ برس دسمبر میں منظرِ عام پر آنے والے اس سکینڈل میں صدر نے سنہ دو ہزار آٹھ میں ایک امیر صنعت کار کی بیوی سے کم شرح سود پر پانچ لاکھ یورو کا قرضہ لیا تھا اور بعد میں انکار کر دیا تھا کہ انہوں نے ایسا کیا ہے۔

تاہم سکینڈل کے بعد یہ سامنے آیا کہ صدر نے جرمنی کے ایک بلڈ نامی اخبار کے مدیر کو یہ خبر شائع کرنے سے روکنے کی کوشش کی جس کے بعد انہوں نے اخبار کے مدیر سے معافی بھی مانگی۔

جمعے کو جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے اس صورتِحال سے نمٹنے کے لیے اپنا اٹلی کا دورہ منسوخ کر دیا اور کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ صدر نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

انہوں نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ وہ کرسٹیان ولف کے فیصلے کا احترام کرتی ہیں لیکن انہیں اس پر افسوس بھی ہے۔

انہوں نے صدر کے متعلق کہا کہ وہ جرمنی کے مفاد کے لیے کیے جانے والے کاموں میں سرگرم تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر کرسٹیان ولف نے استعفیٰ دیتے ہوئے قوم کے مفاد کے بارے میں سوچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس استعفے کے بعد جرمنی کی سیاسی جماعتیں مل کر نیا صدر منتخب کریں گی۔

اسی بارے میں