’طالبان کے ساتھ مذاکرات بالکل ابتدائی مرحلے میں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے۔

امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ کا کہنا ہے کہ ان ابتدائی مذاکرات میں کوشش کی جا رہی ہے کہ افغانوں کا باہمی اعتماد بحال ہو۔

اس سے قبل افغان صدر حامد کرزئی نے پہلی مرتبہ انکشاف کیا تھا کہ اُن کی حکومت نے امریکہ اور طالبان کے ساتھ سہہ فریقی بات چیت کی ہے۔

طالبان نے ایسے کسی رابطے سے انکار کیا ہے۔ تاہم امریکی دفترِ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ نے میڈیا کو بتایا کہ ’یہ سارا عمل ابھی بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ابھی تک ہم کوشش کر رہے ہیں کہ افغانوں کے درمیان اعتماد بحال ہو تاکہ وہ ایک کمرے میں بیٹھ کر بات چیت کر سکیں۔ یہ مرحلہ بہت ابتدائی ہے۔‘

اس سے قبل افغان صدر حامد کرزئی نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کو ایک انٹویو میں کہا کہ پچھلے ماہ امریکہ، افغان اور طالبان مذاکارت ہوئے ہیں۔

تاہم امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی ہے۔ ’ہم نے کابل حکومت کے ساتھ کہیں بھی مذاکرات نہیں کیے ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا نے پینٹاگون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر حامد کرزئی کے وال سٹریٹ جرنل کے انٹرویو سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ افغان حکومت اس مفاہتی عمل میں شریک ہے۔

’صدر کرزئی کا بیان اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ افغان حومت اس عمل میں سنجیدگی سے شریک ہے۔ اور افغان حکومت کے شریک ہونا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آیا پم اس مفاہمتی عمل میں کامیاب ہوں گے یا نہیں۔‘

دریں اثناء اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر عمر داؤدزئی نے برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اعلیٰ سطح پر خفیہ مذاکرات امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان ہو رہے ہیں۔ ’اگر ان مذاکارت میں اگر کوئی تیسری پارٹی بھی شامل ہے تو اس کے بارے میں مجھے معلوم نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ کابل حکومت کے روابط صرف نچلے درجے کے حکام اور مقامی افغان طالبان کمانڈروں تک محدود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات ’جانچنے پرکھنے‘ کے عمل میں ہے۔ ’میں تصدیق کردوں کہ یہ مذاکرات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں اور ان کو مذاکرات کا نام نہیں دیا جاسکتا۔‘

اسی بارے میں