اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کار تہران پہنچ گئے

ہرمن نیکرٹز تصویر کے کاپی رائٹ d
Image caption یہ دورہ ایجنسی کے نائب ڈائریکٹر جنرل ہرمن نیکرٹز کی سربراہی میں کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جوہری ایجسنی کے اہلکار ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے دو روزہ دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ کے دوران یہ اس نوعیت کا دوسرا دورہ ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینالڈز کے مطابق جوہری نگرانی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے اپنے پانچ ماہرین کو تہران بھیجا ہے۔ ایجنسی کے مطابق یہ دورہ صرف ملاقات کی غرض سے کیا جا رہا ہے اور اس دورے کا مقصد معائنہ کرنا نہیں ہے۔

یہ دورہ ایجنسی کے نائب ڈائریکٹر جنرل ہرمن نیکرٹز کی سربراہی میں کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی اے ای اے کی ترجیحات میں شامل ہے کہ وہ اس بات کو شفاف بنائیں کے ممکنہ طور پر ایران کا جوہری پروگرام کس حد تک ملٹری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ دورہ ایک ایسے وقت پر کیا جا رہا ہے جب ایران اور مغرب کے دوران کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

امریکہ کی طرف سے ایران پر پابندیوں کے فیصلے کے بعد یورپی یونین نے بھی پہلی جولائی سے ایران سے تیل کی خریداری روکنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسری طرف ایران نے برطانیہ اور فرانس کو تیل کی فروخت روکنے کا اعلان کیا ہے۔

ایران کی وزارتِ تیل کے ایک اہلکار علی رضا راہبر سے منسوب ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے فرانس اور برطانیہ کو تیل کی فروخت روک دی ہے۔

ایران کا موقف ہے کہ جوہری توانائی کا حصول اس کا حق ہے اور وہ اس سے دستبردار نہیں ہو گا۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے پر غور کر رہا ہے۔