حسنی مبارک مقدمہ آخری مرحلے میں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حسنی مبارک کے بیٹوں جمال اور اعلٰی کو اس مقدمے میں کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے

مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف چلنے والا مقدمہ چھ ماہ کی سماعت کے بعد آخری مرحلے میں داخل ہو گیا۔حسنی مبارک نے مقدمے کی سماعت کے دوران مظاہرین پر گولیاں چلانے کے احکامات جاری کرنے کی تردید کی تھی۔

واضح ر ہے کہ مصر کے سابق صدر حسنی مبارک گزشہ برس فروری میں ہونے والے مظاہروں کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے تھے۔

اس مقدمے میں حسنی مبارک اور دیگر مدعا علیہان کو جن میں ان کے سابق وزیرِ داخلہ حبیب اور چھ سینئیر پولیس افسران شامل ہیں مجرم قراد دینے کی صورت میں موت کی سزا ہو سکتی ہے۔

حسنی مبارک کے بیٹوں جمال اور اعلٰی کو اس مقدمے میں کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے۔

قاہرہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ حسنی مبارک کے خلاف چلنے والا مقدمہ گزشتہ سال اگست میں اس وقت اہمیت اختیار کر گیا جب تراسی سالہ حسنی مبارک نے دعویٰ کیا کہ وہ بہت بیمار ہیں اور عدالت کے سامنے پیش نہیں ہو سکتے اس لیے وہ سٹریچر کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔

حسنی مبارک کے خلاف چلنے والے مقدے کے چیف پراسیکیوٹر مصطفیٰ سلیمان نے پیر کو اپنے اختتامی ریماکس میں کہا کہ یہ مقدمہ دس یا بیس شہریوں کو ہلاک کرنے کے بارے میں نہیں بلکہ پوری قوم کے بارے میں ہے۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ ناممکن ہے کہ حسنی مبارک نے پولیس کو مظاہرین پر گولیاں چلانے کے احکامات جاری نہ کیے ہوں۔

واضع رہے کہ پولیس کی فائرنگ کے نتیجے میں آٹھ سو سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے دو ہزار ے زائد گواہوں کے، جس میں پولیس افسران بھی شامل ہیں، بیانات قلمبند کیے جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں اعلیٰ حکام کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مظاہرین کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پولیس کو آٹو میٹک رائفلیں مہیا کی جائیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق متعدد مبصرین کو یقین ہے کہ حسنی مبارک کے خلاف چلایا جانے والا مقدمہ منصفانہ تھا تاہم استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس مقدمے کے بہت اہم ثبوت تک رسائی نہیں دی گئی۔

اسی بارے میں