ایران کا فوجی اڈے تک رسائی سے انکار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایرانی حکام سے دو روز تک تہران سے تیس کلومیٹر دور پارچن کے فوجی اڈے تک رسائی کا مطالبہ کیا گیا: عالمی ادارے کا اہلکار

اقوامِ متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے نے کہا ہے کہ ایرانی حکام نے انسپکٹروں کی ایک ٹیم کو تہران کے قریب ایک اہم فوجی اڈے کا معائنہ کرنے سے روک دیا ہے۔

جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ جنوبی تہران میں واقع پارچن میں تمام کوششوں کے باوجود اس اڈے کے معائنے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا ہے۔

جوہری توانائی کے ادارے کے انسپکٹرز ایران میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ آیا یہ فوجی اڈہ ایرانی جوہری پروگرام کے تناظر میں استعمال کیا جارہا ہے۔

یہ شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پارچن وہ فوجی اڈہ ہے جہاں حالیہ برسوں میں جوہری ہتھیاروں سے متعلق دھماکہ خیز مواد کا تجربہ کیا جاتا رہا ہے۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم مغرب کو شبہ ہے کہ وہ اسے ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔

ادارے کے ایک اہلکار نے کہا کہ ایرانی حکام سے دو روز تک تہران سے تیس کلومیٹر دور پارچن کے فوجی اڈے تک رسائی کا مطالبہ کیا گیا لیکن ایرانی حکام نے اس کی اجازت نہیں دی ہے جس کے بعد اب یہ ٹیم ایران سے واپس جارہی ہے۔

اس سے قبل جنوری میں بھی بات چیت کا پہلا دور ہوا تھا جو ناکام رہا تھا۔

آئی اے ای کے ڈائریکٹر یوکیو امانو نے ایران کی طرف سے انکار پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

ایران نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر کے بیان پر اب تک اپنا ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

ویانا میں بی بی سی نامہ نگار بیتھنی بیل کا کہنا ہے کہ پارچن تک رسائی سے انکار پر حیرانی کا اظہار نہیں کیا جارہا ہے کیونکہ ایران اور جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے درمیان بات چیت میں اب تک معمولی پیش رفت ہوئی ہے۔

اسی بارے میں