صومالیہ کی مدد پر عالمی رہنماؤں کا اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption لندن میں ہونے والے اس اجلاس میں پچپن ممالک کے مندوبین نے شرکت کی

عالمی رہنماؤں نے لندن میں ایک اجلاس کے دوران اتفاق کیا ہے کہ صومالیہ میں دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور قزاقی پر قابو پانے کے لیے اس کی مدد کی جائے گی۔

اجلاس میں سات نکاتی مسودے پر اتفاق کیا گیا اور عزم کیا گیا کہ صومالیہ میں انسانی امداد میں اضافہ کیا جائے گا، افریقی یونین کے امن کے رضاکاروں کی مدد کی جائے گی اور اس سلسلے میں بین الاقوامی ربط کو بہتر بنایا جائے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ’دنیا کو چاہیے کہ وہ اسلامی شدت پسند گروہ الشباب کو بھاگنے پر مجبور کردے۔‘

بیس سالہ خانہ جنگی کے باعث صومالیہ میں اب کوئی باضابطہ حکومت نہیں ہے۔

موجودہ عبوری حکومت کا براہِ راست تسلط صرف دارالحکومت موغادیشو تک ہی محدود ہے جہاں افریقی یونین کے بارہ ہزار رضاکار موجود ہیں۔

دوسری جانب شدت پسند تنظیم الشباب کا تسلط ملک کے بیشتر علاقوں تک پھیلا ہوا ہے اور اس تنظیم نے حال ہی میں القاعدہ سے گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔

ہلری کلنٹن نے الشباب کے ساتھ بات چیت کے امکان کو نظرانداز کردیا اور کہا کہ اس کا القاعدہ کے ساتھ مل جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تنظیم امن، استحکام یا صومالی عوام کے حق میں نہیں ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری اس حق میں ہے کہ کوئی بھی جو تشدد کو ترک کرنے اور امن کے عمل کو گلے لگانے کے لیے تیار ہو اس سے بات چیت کی جا سکتی ہے۔

صومالیہ کے حکام نے اس سے قبل الشباب کو ہدف بنانے کے لیے فضائی حملے کرنے کے لیے امریکہ سے درخواست کی تھی جبکہ ہلری کلنٹن کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملوں کے لیے ابھی کوئی وجہ نہیں ہے۔

اجلاس کی سربراہی کرتے ہوئے برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ صومالیہ کے مستقبل کے لیے مخلوط حکومت کا قیام انتہائی ضروری ہے جو افریقی یونین کے ساتھ مل کر فوجی کارروائی کر سکے۔

اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صومالیہ میں ایسے نوجوان جو الشباب کے خلاف ہتھیار اٹھائیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ آنے والے دنوں کے خوشحال صومالیہ میں ان کا روشن مستقبل ہے جس کی ہر کوئی خواہش کرتا ہے جہاں ملازمت کے مواقع بھی ہیں اور آواز بھی سنی جاتی ہے۔

لندن میں ہونے والے اس اجلاس میں پچپن ممالک کے مندوبین نے شرکت کی اور اجلاس کے بعد جاری کیے جانے والے باضابطہ بیان میں کہا گیا کہ اگست تک صومالیہ کی عبوری حکومت اقتدار کی منتقلی مخلوط حکومت کو کرے گی، افریقی یونین کی مدد میں اضافہ کیا جائے گا، انسانی امداد کو مربوط بنایا جائے گا، طویل مدتی ضروریات پر توجہ دی جائے گی، قزاقی پر قابو پایا جائے گا اور ملزمان کو دیگر ممالک میں مقدمہ چلانے کے لیے منتقل کیا جاسکے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہم اب تحفظ کی تلاش میں ہیں کیونکہ ہم خوفزدہ ہیں: صومالی صدر شیخ شریف احمد

اجلاس کے آغاز پر صومالیہ میں عبوری حکومت کے رہنماء شیخ شریف احمد نے کہا ’صومالی اپنے ہولناک ماضی کی یادوں کو بھلانا چاہتے ہیں لیکن خدشہ ہے کہ یہ اجلاس سفارتی باتوں کی ایک اور دکان ثابت نہ ہو۔

’ہم اب تحفظ کی تلاش میں ہیں کیونکہ ہم خوفزدہ ہیں۔‘

انہوں نے اسفسار کیا ’ہم یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ اُن قراردادوں کا کیا ہوا، ماضی میں کیے گئے اُن وعدوں کا کیا ہوا جو کبھی پورے نہیں ہوئے، جو محض ایک صفحہ پر لکھی عبارت ہی رہے۔‘

صومالیہ کے کئی سیاسی دھڑوں نے لندن کے اِس اجلاس میں شرکت کی جبکہ الشباب کو مدعو نہیں کیا گیا۔

شدت پسند گروہ نے لندن کے اجلاس کی ملامت کی ہے اور اسے صومالیہ کو مغرب کی کالونی بنانے کی ایک اور کوشش قرار دیا ہے۔

الشباب کے ترجمان علی محمد راگے نے کہا ’وہ ہمیں اپنی تولیت میں لینا چاہتے ہیں جس کی ہم ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔ انشااللہ ہم اجلاس کے نتائج کا پوری طاقت سے مقابلہ کریں گے اور روکنے کی کوشش کریں گے۔‘

الشباب کو دارالحکومت موغادیشو سے گزشتہ برس بے دخل کردیا گیا تھا جبکہ اسے دیگر علاقوں میں صومالیہ، ایتھوپیا اور کینیا کی فوجوں کے دباؤ کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں