نائجیریا: پولیس سٹیشن اور جیل پر حملہ

نائجیریا میں حملے کی ایک فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بوکو حرم نے گزشتہ کئی ماہ کے دوران شمالی نائجیریا میں بم حملے کئے ہیں

نائجیریا کے شمالی شہر گومبے میں حکام کے مطابق جیل اور پولیس سٹیشن پر بم حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوگئے۔

پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار شہری شامل ہیں جبکہ حملے میں پولیس کے بعض اہلکار زخمی ہوئے۔

پولیس نے حملے کے لیے اسلامی شدت پسند تنظیم بوكو حرم کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل جمعہ کو شمالی نائجیریا کے شہر کانو میں بعض مسلح افراد نے ایک حملے میں پانچ افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ حملہ آور موٹر سائیکل پر آئے اور انہوں نے نمازیوں پر گولیاں چلائیں۔

بوکوحرم نے گزشتہ ماہ گومبے شہر کے ایک گرجا کو نشانہ بنایا تھا جس میں چھ عیسائی عقیدت مند ہلاک ہوگئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حالیہ حملے میں گولہ باری اور دھماکوں کا سلسلہ دو گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران پولیس نے ایک وفاقی جیل اور پولیس سٹیشن کا کامیابی سے دفاع کیا۔

بوکو حرم نے گزشتہ ہفتے ریاست کوگی کی ایک جیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں سو سے زائد قیدیوں کو فرار کروایا گیا تھا۔

بوکوحرم اسلام کے ایک ایسے روپ کی پیروی کرتا ہے جو مسلمانوں کو کسی بھی قسم کے مغربی طرز کی سیاسی یا معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے منع کرتا ہے۔

ان میں انتخابات میں حصہ لینا، ٹی شرٹیں پہننا یا سیکولر تعلیم حاصل کرنی بھی شامل ہیں۔

اگرچہ نائجیریا کے صدر ایک مسلمان ہیں تاہم بوکو حرم کے خیال میں نائجیریا کی ریاست کو غیر مسلم چلا رہے ہیں۔

ماضی میں بوکو حرم کے رہنماء محمد یوسف کو گرفتار کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

بوکوحرم نے پچھلے کچھ عرصے میں بہت سے حملے کیے ہیں جن میں نہ صرف سرکار کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ دوسرے مسلک کے مسلمانوں اور عیسائیوں کو بھی ہلاک کیا گیا۔ بوکو حرم کے بڑھتے ہوئے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ گروہ پھر سے فعل ہو رہا ہے۔

بوکو حرم کے بین الاقوامی اداروں کے دفاتر پر حملوں نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔

امریکی کانگریس کی جاری کردہ ایک رپورٹ نے اس گروہ کو علاقے میں امریکی مفادات کے منافی قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بوکو حرم القاعدہ سے تعلقات قائم کر رہا ہے جبکہ بوکو حرم نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں